>پتوکی تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کا عملہ عوام کو پریشان کرنے لگا صبح 8:00 لائن میں لگے لوگ 9:00بجھے تک پرچی بنانے والے کا انتظار کرنے پر مجبور اگر عملہ سے اس کی وجہ پوچھی جاۓ تو آگے سے لڑائی کرتے ہیں اگر عملہ کو یہ کہا جائے کہ آپکی شیکایت کریں گے تو عملہ کہتا ہے جاؤ جو کرنا ہے کر لو ہم کسی سے نہیں ڈرتے ایک عام بندہ پرچی بنانے والا اتنا کچھ عوام سے کر رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں یہ پرچی بنانے والے کا ہر روز کا معمول بن چکا ہے کبھی بھی ٹائم پر کسی کو نہیں ملی اور یہ عملے کے لوگ اپنےرشتے دار لوگوں کو پہلے پرچی بنا کر دیتے ہیں ان کے لئے نہ تو کوئی لائن نہ انتظار گھر میں بیٹھے لوگو کی پرچی سے لیے کر دوائی تک مہیا کی جاتی ہے اور عوام کے اندر شدید غصے کی لہر دوڑ رہی ہے انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے
198