اردگان کی تقریر کے اہم نکات
خاشقجی کا قتل ایک پلان شدہ عمل تھا
سعودی گروپ نے خاشقجی کے قتل کا پلان پہلے سے بنایا تھا ، قتل کی منصوبہ بندی 29 ستمبر کو کی گئی ۔
مشابہت رکھنے والے ایک شخص کو قونصل سے خانے ریاض بھیجا گیا
وہ شروع میں خاشقجی کے قتل سے مکمل انکار کرتے رہے
اس قتل کے واضح ہونے کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے متضاد بیانات کیوں آرہے تھے ؟
قتل کا انہوں نے اعتراف کرلیا ہے تو اس کی لاش کہاں ہے ؟
سعودیہ نے جن اٹھارہ افراد کو گرفتار کرنے کا کہا ہے ان میں سے پندرہ کی شناخت کو ہم نے ظاہر کردیا ہے ۔
پندرہ افراد پر مشتمل سعودی گروپ کے ترکی آنے کی وجہ کیا تھی ؟
ہمیں اسی دن قونصل خانے کی تفتیش کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی ؟
قونصل خانے کی سی سی ٹی کیمروں سے ہارٹ ڈسک کو نکالا گیا تھا
قونصل خانے کے حادثے سے پہلے تین سعودی افراد پر مشتمل ایک گروپ ترکی آیا اور انہوں نے بلغراد کے جنگلوں اور یالوفا میں کچھ علاقوں کی شناخت کی ۔
میں نے بادشاہ سلمان پر واضح کردیا تھا کہ اس کا قونصل خانہ اس ایشو کے بارے میں غلط بیانی سے کام لے رہا ہے
اس قتل کے بارے میں ہم خاموش نہیں رہ سکتے اور ہمارے اور عالمی برداری کے کندھوں پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے
تمام تر شواہد واضح کرتے ہیں کہ خاشقجی قونصل خانے کے اندر انتہائی وحشی انداز سے مارا گیا ہے
سعودی عرب کی جانب سے اب اس قتل کے بارے میں اعتراف ایک مثبت قدم ہے ۔
اس قتل کو چند سیکوریٹی آفیسروں کی گردن پر ڈالنے کی کوشش سے نہ تو ہم مطئمن ہونگے اور نہ ہی عالمی برداری مطمئن ہوگی
کہا گیا کہ لاش کو ایک مقامی فرد کے سپرد کی گئی تو یہ مقامی فرد کون ہے ؟
اس قتل میں سعودیوں کے ساتھ کچھ غیرملکی بھی شامل ہیں
ہمارے پاس واضح اور مضبوط دلائل موجود ہیں کہ یہ ایک پلان شدہ قتل تھا نہ کہ اتفاقی جیسا کہ کہا جارہا ہے
ہمارا سعودیہ سے مطالبہ ہے کہ اس جرم میں شریک نیچے سے اپر تک تمام افراد کو سامنے لایا جائے
میرا بادشاہ سلمان سے مطالبہ ہے کہ ان 15افراد کیخلاف کاروائی کو ترکی میں انجام دی جائے
سعودی عرب اب اس قتل کے اقرار کے باوجود اب تک خاشقجی کی لاش کے بارے میں نشاندہی کیوں نہیں کررہاہے ؟
225