باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ میونسپل کمیٹی اوتھل میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا انکشاف ہوا ہے اور کروڑوں روپے کے فنڈز صفائی کے نام پر اور ترقیاتی کاموں کی آڑ میں خورد برد ھوا ھیے افسوس کی بات ہے کہ میونسپل کمیٹی کا ایک اہم ادارھ نااہل لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے میونسپل کمیٹی کے جو کنٹریکٹ ملازمین ھیں ان کی تعداد تقریباً 26 سے28 ھیں اور باقی جو کنٹریکٹ ملازمین انڈر گرونڈ ھیں وہ کھاں ھیں کوئی پتہ نہیں
ایک المیہ کے مطابق کنٹریکٹ ملازمین کو کم از کم اس مہنگائی کے دور تنخواہ 17500 ھونی چاہیے مگر میونسپل کمیٹی کے جو کنٹریکٹ ملازمین ھیں ان کو 8000 سے 10000 روپے دیئے جاتے ہیں
زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ میونسپل کمیٹی اوتھل کے جو ملازمین کاجو پنشن اکاؤنٹ نمبر 1247.7 ھے عرصہ دراز سے بند کیا گیا ہے اس کی تحقیقات ھونی چاہیے
اور دوسرا اکاؤنٹ نمبر 1365.7 ھے اس میں بھی بڑے پیمانے میں خورد برد ھو ی ھے اور ڈیلمنیٹ/کنٹیجینس فنڈز میں بھی خورد برد کیا گیا ہے
مزکورہ عملہ جوکہ اس ساری گٹھ جوڑ میں شامل ھے اوربات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک ADLڈپارٹمنٹ کا کلرک جو کہ عرصہ 20 سال اسسٹنٹ کی میونسپل کمیٹی اوتھل پر قابض ھے. کیا میونسپل کمیٹی اوتھل میں ایسا کوئی اسٹاف موجود نہیں یا سب نااہل ھیں
قابض کلرک میونسپل کمیٹی اوتھل نے اپنے بھائی کو ٹھیکے دیے ھوے ھیں اور قابض کلرک اپنے بھائی کے ساتھ پارٹنرشپ کر رھا ھے
موجودہ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی اوتھل نااہل ھے اور وہ بھی اس بنرربانٹ میں میں شامل ھے
ھم اہلیانِ اوتھل جناب وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب جام کمال خان عالیانی صاحب سے اور کمشنر قلات ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سے پر زور اپیل کرتے ہیں اس سارے معاملے کی مکمل تحقیقات ھونی چاہے
312