واٹس اپ فیس بک یا سوشل میڈیا کے کسی بھی چینل پر پوسٹیں فارورڈ کرنے سے آپ پر سائبر جرائم کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔
اسلام آباد:پاکستان میں 2017 سے سائبر جرائم کے امتناع کا قانون نافذ ہو چکا ہے جس کا اطلاق ان پوسٹوں پر بھی ہو سکتا ہے جو ہم بغیر تحقیق فارورڈ کر دیتے ہیں ۔ اس پوسٹ کے ساتھ مکمل قانون کی نقل منسلک ہے ازراہ کرم شق نمبر 9 ، 10، 11 اور 37 کا بغور مطالعہ کر لیں اور کسی بھی پوسٹ کو فارورڈ کرنے سے پہلے دیکھ لیں کہ ان چار شقوں کے تحت آپ اپنے لیئے مشکلات تو نہیں کھڑی کر رہے اگر آپ کوئی ایسی پوسٹ آپ بلا تحقیق فارورڈ کر تے ہیں جسے آپ کو بھیجنے والے نے فوٹو شاپ ، ویڈیو ایڈیٹنگ یا وائس چینجر کے ذریعہ تحریف کر کے بھیجی تھی یا پھر آپ کی فارورڈ کی ہوئی پوسٹ سے کسی فرقے یا گروہ کے لیئے نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں تو آپ کے لیئے مسایل کھڑے ہو جایئں گے ۔
یاد رہے کسی مسئلے پر اپنی سچی اور مخلصانہ رائے دینے یا تعمیری تنقید کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے کیونکہ آئین آپ کو آزادی اظہار کا حق دیتا ہے
منسلک قانون میں درج چیدہ چیدہ سائبر جرائم کی جو سزا بیان کی گئی ہے وہ کچھ یوں ہے
1) کسی بھی شخص کے موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3 ماہ قید یا 50 ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
2) کسی بھی شخص کے ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 6 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
3) کسی بھی شخص کے فون، لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں 2 سال قیدیا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
4) اہم ڈیٹا (جیسے ملکی سالمیت کے لیے ضروری معلومات کا ڈیٹا بیس) تک بلااجازت رسائی کی صورت میں 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
5) اہم ڈیٹا کو بلااجازت کاپی کرنے پر 5 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
6) اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 7سال قید، 1 کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
7) جرم اور نفرت انگیز تقاریر کی تائید و تشہیر پر 5 سال قید یا 1 کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
8) سائبر دہشت گردی: کو ئی بھی شخص جو اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچائے یا پہنچانے کی دھمکی دے یا نفرت انگیز تقاریر پھیلائے، اسے 14 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
9) الیکٹرونک جعل سازی پر 3 سال قید یا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
10) الیکٹرونک فراڈ پر 2 سال قید یا 1 کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
11) کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والی ڈیوائس بنانے، حاصل کرنے یا فراہم کرنے پر 6 ماہ قید یا 50 ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
12) کسی بھی شخص کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
13) سم کارڈ کے بلا اجازت اجرا پر 3 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
14) کمیونی کیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
15) بلااجازت نقب زنی(جیسے کمیونی وغیرہ میں) پر 2 سال قیدیا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
16) کسی کی شہرت کے خلاف جرائم: کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
17) کسی کی عریاں تصویر/ ویڈیو آویزاں کرنے یا دکھانے پر 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
18) وائرس زدہ کوڈ لکھنے یا پھیلانے پر 2 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
19) آن لائن ہراساں کرنے، بازاری یا ناشائستہ گفتگو کرنے پر 1سال قید یا یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
20) سپامنگ پر پہلی دفعہ 50 ہزار روپے جرمانہ اور اس کے بعد خلاف ورزی پر 3 ماہ قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
21) سپوفنگ پر 3 سال قید یا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں ۔