142

ٹرو پالیسی ہم بحیثیت مسلمان کس ڈگر پر چل رہے ہیں اور ہمارا نصب العین کیا ہے اور ہمیں بطور پاکستانی کیا فرائض سر انجام دینے چاہییں۔ان تمام سوالوں کے جواب ہمیں ہر صورت ڈھونڈنے پڑیں

ٹرو پالیسی
ہم بحیثیت مسلمان کس ڈگر پر چل رہے ہیں اور ہمارا نصب العین کیا ہے اور ہمیں بطور پاکستانی کیا فرائض سر انجام دینے چاہییں۔ان تمام سوالوں کے جواب ہمیں ہر صورت ڈھونڈنے پڑیں گے۔لگ بھگ عرصہ بارہ سال سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہوں ملازمت کے ساتھ ساتھ بطور سینیئر صحافی بھی فرائض سرانجام دے رہا ہوں اور میرے تنقیدی مشاہدےکے مطابق جو عزت اور مقام بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ہمیں یواےای میں ملنا چاہیےہم اس سے عاری ہیں۔جبکہ دوسرے ممالک بلخصوص انڈین کمیونٹی اس وقت ہر سٹیج پر نمبرون کیٹیگری میں ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ مخلص وفادار اور مستقل مزاج نہیں ہیں۔اپنے ہی ملک کی مساجد سارا سال خالی پڑی رہتی ہیں جب ماہ رمضان الکریم آتا تو نمازی حضرات نظر آتے ہیں۔اور اس مقدس مہینہ میں بھی چوری چکاری، جھوٹ فریب اور دھوکہ دہی سے باز نہیں آتے ہیں بلکہ اس بابرکت ماہ صیام میں سرٹیفیکیٹ مل جاتا کہ اب تو ہمارے گناہ غلطیاں بھی معاف کر دی جائیں گی جو کہ سراسر خام خیالی اور غلط توقع ہے۔ہر انسان اپنے ایک ایک عمل کا جواب دہ ہے۔اس جدید دور میں بھی ہمارے ملک کی مساجد سے جوتے چوری ہوتے ہیں۔اشیاۓ خورد و نوش میں ملاوٹ کی جاتی ہے۔گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کر کے کم قیمت اشیاء کو مہنگے داموں بیچ دیا جاتا ہے۔عورتوں، بچوں اور بزرگوں کی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے۔ہر انسان اپنے آپ کو دوسروں پر فوقیت دے کر زیادہ عزت دار بننے کے گھن چکر میں ہے۔جس حکو مت کو بھی اقتدار ملا اس نےعوام کی بجاۓاقرباءپروری میں ٹاپ کیا اور عام آدمی کا مقدر کل بھی غربت، مفلسی اور تذلیل تھا اور آج بھی وہی ہےکل کا پتہ نہیں مگر کہ کیا ہوگا۔لیکن انگلش کا ایک لفظ ہے( یوزڈ ٹو)مطلب مہارت اسی میں ہے تو مستقبل بھی یقینی طور پر یہی ہوگا۔کب اور کیسے بدلیں گے ہم مسلمان پاکستانیوں کے حالات یہ کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔ہماری کمیونٹی کو بس صرف اشارہ دیں کے ہڑتال کرنا ہے روڈز بلاک کرنا ہے اور اپنے ہی ملک صوبے یا ضلع کی تنصیبات کو تباہ برباد کرنا ہے تو اکثریت سڑکوں پر کل آۓ گی۔جس سے ہماری ہی قوم کے افراد ایمرجنسی میں ایجوکیشن میں اور روزگار میں بلاک ہو کر رہ جائیں گے۔متحدہ عرب امارات میں تقریباًدس ہزار کے قریب جامع مساجد ہیں اور یقین کریں کہ ماہ رمضان المبارک کے علاوہ بھی نماز کے اوقات کار میں بھری رہتی ہیں اور اذان سے بھی قبل مساجد میں نمازی حضرات عبادات میں مشغول پاۓ جاتے ہیں۔میں نےاپنے ماضی کے ایک کالم میں تذکرہ کیا تھا کہ ہمیں اس عظیم ذات رب کریم سےمانگنے کا طریقہ نہیں آتا ہے.نماز کے دوران ہمارا دل و دماغ اس سوچ میں ہوتا ہے کہ مال و دولت کیسے اکٹھا کریں اور جو موجود ہے اس کو کیسے استمعال کریں۔اور ایسے بہت سے خیالات اور وسوسے گردش کرتے رہتے ہیں اس وقت جب ہم ایک ایسی عظیم ذات کے سامنے کھڑے ہیں جس کی شان ہی کن فیکون ہے۔کسی بھی وزیر کبیر یا کسی بڑے افسر کے سامنے ہم ایسے کوئی بھی چیز مانگ سکتے ہیں نہیں کبھی نہیں اگر ہم آئی کنٹیکٹ بھی موو کریں تو سامنے والا ذلیل کر کے نکال دے گا۔تو اس ذات اقدس جس کا کوئی شریک نہیں وہ ایک ہے اور سب سے بڑا ہے اس کے سامنے ہمیں کیسے پیش آنا چاہیے۔بہترین طہارت، غسل اور باوضو ہو کر خوف اور نم آنکھوں کے ساتھ تو دعا کی قبولیت فلفور ہوگی۔اسی میں استقامت ہو مستقل مزاجی ہو اور دل و دماغ جسم کی بہترین صفائی ہو تو دنیا میں بھی عزت ملےگی اور آخرت میں بھی۔ایک پاکیزہ صاف ستھرا جسم روح اور لباس اگر ایک دنیاوی وزیر کبیر بادشاہ کو اپنی طرف مائل متوجہ کر سکتا ہے تو سوچیے کہ اللہ کریم رحیم کے سامنے اس کے بندے کی ویلیو کیا ہوگی۔خدارا اپنے حال اور دلوں پر رحم کریں اور ایسی ہی ایک ٹرو پالیسی اپنا کر اپنے اوپر لاگو کریں جو دنیا اور آخرت میں عظیم کامیابی کا سرچشمہ ہے۔(وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں