371

بنگلہ دیش ماڈل کو اپنایا جائے۔ بنگلہ دیش نے کم لاگت پر برآمدات کو بڑھا کر دنیا میں اپنی ساکھ بنائی — پاکستان بھی یہی کر سکتا ہے اگر نیت اور حکمت عملی ہو۔

رپورٹ برائے اعلیٰ حکام و عوامی نمائندگان

عنوان: “قومیں خیرات سے نہیں، محنت سے ابھرتی ہیں — پاکستان کے لیے بنگلہ دیش ایک سبق!”
جاری کردہ: انٹرنیشنل میڈیا گروپ
تاریخِ اجراء: 2 جولائی 2025

تعارف:

بنگلہ دیش، جو کبھی پاکستان کا حصہ تھا، آج کئی معاشی اشاریوں میں ہم سے آگے نکل چکا ہے۔ اس ترقی کے پیچھے ایک بڑی وجہ محنت کش خواتین کا وہ کردار ہے جنہوں نے غربت کی زنجیروں کو توڑ کر گارمنٹس انڈسٹری میں خود کو منوایا۔ بنگلہ دیش میں 32 لاکھ سے زائد خواتین آج گارمنٹس سیکٹر میں باعزت روزگار حاصل کر کے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کی تصویر افسوسناک ہے: یہاں 57 لاکھ خواتین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے وظائف پر انحصار کر رہی ہیں۔ یہ وظیفہ وقتی ریلیف تو ضرور فراہم کرتا ہے، مگر نہ تو یہ معاشی ترقی کا ذریعہ ہے اور نہ ہی خودداری کی بنیاد۔

مسئلے کی نوعیت:

پاکستان میں غریب خواتین کو معاشی تحفظ دینے کے نام پر خیرات پر زندہ رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

یہ حکومتی پالیسی انہیں محنت کش بنانے کے بجائے، ایک غیر پیداواری سوسائٹی کا حصہ بننے پر اکسا رہی ہے۔

مسلسل خیرات کا انحصار نہ صرف معیشت پر بوجھ ہے بلکہ قوم میں عزت نفس، خود داری اور ترقی کی سوچ کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

تجاویز و مطالبات:

1. خیراتی بجٹ کو روزگار پروگرامز میں منتقل کیا جائے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو “بی آئی ایس پی ورکرز اسکلز پروگرام” میں تبدیل کر کے خواتین کو سلائی، کڑھائی، فری لانسنگ، یا چھوٹے کاروبار میں تربیت دے کر انہیں روزگار کے قابل بنایا جائے۔

2. گارمنٹس اور ہینڈ کرافٹس انڈسٹری کو سبسڈی دی جائے۔
حکومت ایسے صنعت کاروں کو مراعات دے جو خواتین کو گھر بیٹھے کام دے کر روزگار فراہم کریں۔

3. بنگلہ دیش ماڈل کو اپنایا جائے۔
بنگلہ دیش نے کم لاگت پر برآمدات کو بڑھا کر دنیا میں اپنی ساکھ بنائی — پاکستان بھی یہی کر سکتا ہے اگر نیت اور حکمت عملی ہو۔

4. سیاسی قیادت پر زور:
عوامی نمائندے صرف ووٹ مانگنے نہ آئیں، وہ اپنی ذمہ داری محسوس کریں کہ قوم کو فقیر بنانے نہیں، محنت کش بنانے آئے ہیں۔ اگر بنگلہ دیش ایسا کر سکتا ہے، تو پاکستان کیوں نہیں؟

نتیجہ:

قومیں خیرات پر نہیں، محنت پر کھڑی ہوتی ہیں۔ اگر ہم نے خواتین کو صرف رقم بانٹ کر مطمئن کر دیا تو یہ وقتی سکون ہوگا، مگر دائمی زوال کا راستہ۔ ہمیں آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں ایک باعزت محنت کش قوم بننا ہے یا ہمیشہ کے لیے امداد پر جینے والی قوم۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: امداد یا اذیت؟

خصوصی رپورٹ — انٹرنیشنل میڈیا گروپ

پاکستان میں غریب اور مستحق خواتین کے لیے قائم کردہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) اب ایک سنگین بدعنوانی اور عوامی ذلت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ہر چھ ماہ بعد جاری ہونے والی 12 سے 13 ہزار روپے کی قسط، جو ان خواتین کی زندگی کا سہارا ہوتی ہے، ان کے لیے باعثِ زحمت، تضحیک اور رسوائی بن چکی ہے۔

ڈیوائس ہولڈرز کی اجارہ داری اور کٹوتی مافیا

ملک بھر میں امداد کی تقسیم پر مامور ڈیوائس ہولڈرز کی ایک مافیا قائم ہو چکی ہے جو خواتین سے زبردستی کٹوتی کرتی ہے۔ ان مستحق خواتین کو قسط کی مکمل رقم دینے کے بجائے 500 سے 1500 روپے تک غیر قانونی طور پر کاٹ لیے جاتے ہیں۔ جو خاتون احتجاج کرے، اسے لائن سے ہٹا دیا جاتا ہے یا اس کی قسط روک دی جاتی ہے۔ کئی مقامات پر ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں خواتین کو جعلی سیکیورٹی اہلکاروں اور مقامی نمائندوں کی ملی بھگت سے زبردستی خاموش کرایا جاتا ہے۔

خواتین کی عوامی تذلیل معمول بن گئی

امدادی مراکز پر بدانتظامی، دھکم پیل اور بے عزتی کا عالم یہ ہے کہ کئی خواتین گھنٹوں قطار میں کھڑی رہتی ہیں، اور بعض اوقات ان سے بدزبانی، دھکے اور یہاں تک کہ ہاتھا پائی بھی کی جاتی ہے۔ عزت دار گھرانوں کی خواتین کو سرِعام ذلیل کر کے چند ہزار روپے کی امداد دینا، انسانی وقار کی کھلی توہین ہے۔

قومی سوال: کیا یہ فلاح ہے یا ذلت؟

نوٹ برائے اشاعت و ترسیل:
یہ رپورٹ ذرائع ابلاغ، پارلیمنٹ کے تمام ممبران، وزارتِ خزانہ، وزارتِ منصوبہ بندی، اور بی آئی ایس پی کے حکام کو بذریعہ ڈاک اور ای میل ارسال کی جائے تاکہ یہ پیغام پالیسی کی میز پر پہنچے۔صد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں