100

از دفتر سندھ پولیس تعلقات عامہ۔۔۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ۔۔ درخواست برائے ٹکرز آئی جی سندھ/روشنی ہیلپ لائن/گمشدہ بچے/ڈیٹا/اجلاس۔۔۔ کراچی،27 جنوری 2025:-

از دفتر سندھ پولیس تعلقات عامہ۔۔۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ۔۔

درخواست برائے ٹکرز

آئی جی سندھ/روشنی ہیلپ لائن/گمشدہ بچے/ڈیٹا/اجلاس۔۔۔

کراچی،27 جنوری 2025:-

• سندھ پولیس کا گمشدہ/لاپتہ بچوں کے معاملے پر سرکاری/ غیرسرکاری شعبوں و سماجی تنظیموں کے ساتھ باقاعدگی سے باہم اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ۔
• اجلاس میں روشنی ہیلپ لائن،زارا الرٹ، زینب الرٹ،سی پی ایل سی،کراچی پولیس15، شعبہ وومن اینڈ چائلڈ پروٹیکشن،آئی جی شکائتی سیل و دیگر شامل ہونگے۔
• اجلاس کامقصد صوبے سے گمشدہ/لاپتہ اور مل جانے والے بچوں کی درست تعداد اکٹھا کرنا،سینٹرلائزڈ بنانا اور متعلقہ شعبوں بالخصوص میڈیا کو فراہم کرنا ہوگا۔
• آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی ذیر صدارت گمشدہ/لاپتہ بچوں کی درست تعداد اور انکی تلاش سے متعلق اب تک کی کاوشوں پر مشتمل جائزہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
• سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ اجلاس میں روشنی ہیلپ لائن کے بانی محمدعلی،ڈی آئی جیز کرائم اینڈ انویسٹی گیشنز،ہیڈکوارٹرز،آئی ٹی،انویسٹی گیشز کراچی،اے آئی جیز، ایڈمن،شکائتی سیل، جینڈر بیسڈ کرائم اینڈ انسانی حقوق، آپریشنز اور پی ڈی آئی ٹی سمیت دیگر نے شرکت کی۔
• اجلاس کے شرکاء کو بانی روشنی ہیلپ لائن نےگمشدہ/لاپتہ بچوں سے متعلق ادارہ کی کارکردگی اور ان کی تلاش کے ضمن میں کیئے گئے اقدامات سے متعلق آگاہ کیا۔
• گمشدہ/لاپتہ بچوں کی تلاش میں پولیس وہ واحد شعبہ ہے جو سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ محمد علی ،بانی روشنی ہیلپ لائن
• روشنی ہیلپ لائن گمشدہ/لاپتہ بچوں کی تلاش میں اپنا انفرادی و اجتماعی کردار انتہائی سنجیدگی سے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر سر انجام دیتی ہے۔بانی روشنی ہیلپ لائن
• ایسے تمام افسران و اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انکے اعزاز میں روشنی ہیلپ لائن تقریب کے انعقاد کی خواہش مند ہے۔بانی روشنی ہیلپ لائن
• ملک و صوبے میں گمشدہ/لاپتہ بچوں کے لیئے مصروف سرکاری و غیرسرکاری ایجنسیز کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار مختلف ہیں۔اے آئی جی شکائتی سیل
• سندھ پولیس نے بچوں کی گمشدگی کی اطلاع،تلاش کی کاوشیں اور مل جانے کی اطلاع کے اندراج کے لیئے باقاعدہ ایپلیکیشن تیار کرلی ہے۔اے آئی جی شکایتی سیل
• ایپلیکیشن تک رسائی علاقہ ایس ایچ اوز سمیت سندھ پولیس کے تمام شعبوں اور متعلقہ سرکاری و غیرسرکاری اداروں کو بھی دی جائے گی تاکہ وہ بھی گمشدہ بچے کی معلومات اور مل جانے کی صورت میں اندراج یقینی بناسکیں۔ بریفنگ
• سندھ پولیس-15 میں ایک شعبہ گمشدہ افراد کی اطلاعات اور بازیابی کے لئے بھی مخصوص ہے۔بریفنگ
• گمشدہ /لاپتہ بچوں کے درست اعدادوشمار،موجودہ صورتحال اور مشترکہ تعاون بڑھانے کے سلسلے میں باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں ۔آئی جی سندھ کی ہدایت
• گمشدہ بچوں کے معاملے پر تما م اسٹاک ہولڈرزکو مل کر چلنے کی ضرورت ہے ۔آئی جی سندھ
• ہمیں عوام بالخصوص بچوں تک یہ آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے کہ گمشدگی کی صورت میں کیا کیا جائے۔غلام نبی میمن آئی جی سندھ
• والدین کی جانب سے کم عمر بچوں کو یہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ راستہ بھٹک جانے کی صورت میں کیسے اور کس کو اطلاع کی جائے۔آئی جی سندھ
• پولیس سے رابطہ قائم کرنے سے متعلق تعلیم سب سے آسان و محفوظ پیغام ہے۔ آئی جی سندھ
• پولیس وہ واحد شعبہ ہے جو انتہائی نچلی سطح تک عوام میں مقبول اور منظم ہے۔ آئی جی سندھ
• بچوں کی گمشدگی کی صورت میں فوری طور پر اغواء کا تاثر دینا قبل ازوقت،غیردانستہ اور غیر سنجیدہ ہوتا ہے۔آئی جی سندھ
• سرکاری وغیرسرکاری ڈیٹا کے مطابق 70 فیصدگمشدہ بچے قلیل وقت میں گھر لوٹ آئے یا والدین کو مل گئے۔آئی جی سندھ
• اغواء کا فوری تاثر دینے سے مغوی بچے کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔آئی جی سندھ
• اغواء کار اپنے گرد گھیرا تنگ ہونے کا دباؤ دیکھ کرمعصوم بچے کی جان لے لیتے ہیں۔ آئی جی سندھ
• والدین اور لواحقین سے گذارش ہے کہ بچوں کی گمشدگی سے متعلق اطلاع فوری طور علاقہ پولیس یا پولیس-15کودیں، ہوسکتا ہے پولیس کے پاس بچہ یااس سے متعلق اطلاع پہلے سے ہی موجود ہو۔آئی جی سندھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں