*سانحہ بلدیہ فیکٹری کے 260 شہداء کی 12ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔۔۔*
کچھ حادثات ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنھیں لاکھ کوشش کے باوجود ذہن سے محو نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے ہی حادثات میں ایک حادثہ ہے سانحہ بلدیہ فیکٹری ، علی انٹرپرائزز۔ یہ سانحہ آج سے ٹھیک 12 برس قبل برپا ہوا تھا ، یہ ایک ہولناک آتشزدگی تھی جوکہ 26 گھنٹے تک جاری رہی اور جب اس آتشزدگی پر قابو پایا گیا تو 260 افراد اس آتشزدگی کی لپیٹ میں آ کر شہید ہو چکے تھے اور ان شہدا کے لواحقین کی چیخ و پکار تھی کہ گویا قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہی تھی، یہ سانحہ 11 ستمبر 2012 کو پیش آیا۔
اس سانحے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ سانحے میں 50 افراد ایسے بھی تھے جوکہ اس آتشزدگی کے وقت اس فیکٹری میں موجود تھے اور قدرت کو ان کی زندگی مطلوب تھی۔ سو یہ 50 افراد بچ گئے مگر یہ اس قدر شدید زخمی ہوگئے تھے کہ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جوکہ بچ تو گئے مگر تاحیات معذوری ان کی منتظر تھی۔ یہ 50 افراد آج بھی معذوری کی حالت میں اپنی زندگی کے ایام پورے کر رہے ہیں۔
یہ حقیقت بیان کرنا، دل گردے کا کام ہے کہ پھر ان لوگوں کے گھر والے کس کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔