*سندھ اسمبلی میں ملازمین کی تعداد اراکین سندھ اسمبلی سے 60 فیصد سے زائد ہونے کا انکشاف ہوا ہے، گزشتہ ادوار میں بے دریغ بھرتیوں سے تنخواہوں اور مراعات کا بوجھ بڑھ گیا ہے،*
*سندھ اسمبلی میں اراکین کی تعداد تو محض 168 ہے لیکن ملازمین کی تعداد 500 سے تجاوز کرگئی ہے جو کہ ابھی بھی رُکنے کا نام نہیں لے رہی، ہر اسپیکر نے میرٹ کے برخلاف بھرتیاں کیں، سندھ اسمبلی میں کام کرنے والے پانچ سو میں سے دو سو ملازمین بھی روزانہ دفتر نہیں آتے، گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کررہے ہیں، کیوں کہ نہ تو اتنے لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور نہ ہی کوئی کام، ،گریڈ 21 کے 3 اور گریڈ 20 کے 8 افسران،،، گریڈ 19 کے 11 اور گریڈ 18 کے 12 افسران اور گریڈ 17 کے 22 افسران تعینات ہیں،،*
*جبکہ گریڈ 16 کے 19 افسران سندھ اسمبلی میں مختلف عہدوں پر تعینات ،، 21 گریڈ کے 1 سیکریٹری اور دو سینیئر اسپیشل سیکریٹری کو تنخواہوں کے علاوہ دیگر مراعات بھی حاصل ہیں ، 20 گریڈ کے ڈی جی پروٹوکول کی معاونت کے لئے 26 اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسر*
*19 گریڈ کے 7 ڈپٹی سیکریٹری ،،،18 گریڈ کے 3 ڈیوٹی سیکریٹری اور 18 گریڈ کے 10 اسسٹنٹ سیکریٹری*
*16 گریڈ کے 10 اسسٹنٹ* *سپرنٹنڈنٹ