283

واٸلڈ لاٸف کے افسران کی سرپرستی میں شکاری کھلے عام شکار کرنے کا انکشاف* *اوتھل:: محکمہ واٸلڈ لاٸف کے افسران کی چشم پوشی ایک بار پھر معصوم پرندوں کا شکار بے دردی سے جاری تیتر اور بٹیر کی نسل کشی کی جارہی ضلعی لسبیلہ کے مختلف ایریاز میں شکاری کھلے عام شکار کرکے معصوم پرندوں کی نسل کشی کر رہیے انتہاٸی اہم ذرائع سے پتا چلا ہے کے ایک شکاری کو جب شکار کے دوران پکڑا کیا تو انہوں نے کھلے عام کہا کے ہمھیں جنگلات کے افسران کی کھلی چھوٹ ہے آپ لوگ کون ہو

*واٸلڈ لاٸف کے افسران کی سرپرستی میں شکاری کھلے عام شکار کرنے کا انکشاف*

*اوتھل:: محکمہ واٸلڈ لاٸف کے افسران کی چشم پوشی ایک بار پھر معصوم پرندوں کا شکار بے دردی سے جاری تیتر اور بٹیر کی نسل کشی کی جارہی ضلعی لسبیلہ کے مختلف ایریاز میں شکاری کھلے عام شکار کرکے معصوم پرندوں کی نسل کشی کر رہیے انتہاٸی اہم ذرائع سے پتا چلا ہے کے ایک شکاری کو جب شکار کے دوران پکڑا کیا تو انہوں نے کھلے عام کہا کے ہمھیں جنگلات کے افسران کی کھلی چھوٹ ہے آپ لوگ کون ہو ہمھیں روکنے والے تاحال ان شکاری نے یہ بھی انکشاف کیا کے واٸلڈ لاٸف کے افسران نے ہمھیں اجازت دی ہم شکار کریں گے اور کھلے عام شکار کریں گے ہمھیں کوٸی اب نہیں روک سکتا تازہ ترین رپورٹ یہ ہے کے محکمہ واٸلڈ لاٸف کے افسران کے سر کے نیچے ان پرندوں کی خریدو فروخت کی جاتی ہے جیسے کھانٹا ندی لاکھڑا موڑ ناریل فارم کے حدود میں شکار کیے ہوٸے کالے تیتر اور دیگر تیتر بٹیر کی خرید و فروخت کی جاتی ہے تاحال واٸلڈ لاٸف کے افسران صرف فوٹو سیشن تک محدود دیکھاٸی دے رہیے ہیں روزانہ کی بنیاد پر شکاری کھلے عام شکارکرتے رہتے ہیں جبکہ محکمہ واٸلڈ لاٸف کے افسران کو محکمہ کی طرف ہر سال کثیر تعداد میں فیول فراہم کرتی ہیں تاکہ شکار کرنے والے شکاری کو پکڑا جاٸے لیکن افسران اپنے گھروں اور دفتر تک محدود ہیں پھر یہ فیول کہاں جاتا ہے جو شکاری کھلے عام شکار کرکے بے زبان پرندوں کی نسل کشی کررہیے ہیں ایسے افسران کے خلاف کارواٸی عمل میں لاٸی جاٸے جو شکاریوں کی سرپرستی کرتے ہیں حالیہ ایک کارواٸی خوش آٸند ہے لیکن یہ بھی صرف فوٹو سیشن تک محدود تھی ایک طرف بٹیر آزاد کیے جارے تھے تو دوسری جانب شکاری کھلے عام ٹیتر اور بٹیر کو باری مقدار میں انکے سر کے نیچے فروخت کرکے چلے گٸے اور جہاں تک واٸلڈ لاٸف کے افسران کی بات کی جاٸے تو افسر ایک ایک ماہ اپنے دفتر سے غاٸب رہتا ہے اور جہاں ایک موٹر ساٸیکل سوار شکاری ہتھے چڑگیا تو سارے افسر فوٹو سیشن کے لیے پہنچ گٸے وہ بھی سوشل میڈیا پرنٹ کے نشاندہی کے باوجود کوٸی کارواٸی عمل میں نہ لانا بھی ان افسران کی ملی بھگت لگتی ہے*

*لسبیلہ کے عوامی حلقوں نے وفاقی وزیر تجارت وزیراعلی بلوچستان MPAلسبیلہ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سے مطالبہ کرتے ہوٸے کہا کے ان شکاریوں کے ساتھ ملوث افسران کے خلاف سخت ایکشن لیا جاٸے جو اپنے محکمہ کے ساتھ مخلص نہیں اور دوسری جانب بے دردی سے شکار کرنے والے شکاریوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جاٸے اور شکار پر مکمل پابندی لگاٸی جاٸے اور چوکی لگاٸی جاٸے جو پرندوں کا شکار کرکے انکو کراچی و دیگر علاقوں میں فروخت کرنے لے جاتے انکے خلاف کارواٸی عمل میں لاٸی جاٸے*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں