198

ضلع لسبیلہ کی تحصیل لاکھڑا بدقسمتی سے ہر زمانے میں ہر اعتبار سے مسائل کا گڑھ رہی ہے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لاکھڑا کے باسی اس جدید دور میں بھی زندگی گزارنے کی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں* *تعلیم،صحت،سڑکیں،نادرا سینٹر،بے روزگاری،زراعت،پینے کا پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی نہ ہونے کے برابر ہیں*

*سخت گرمی اور پانی کا شدید بحران*

*ضلع لسبیلہ کی تحصیل لاکھڑا بدقسمتی سے ہر زمانے میں ہر اعتبار سے مسائل کا گڑھ رہی ہے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لاکھڑا کے باسی اس جدید دور میں بھی زندگی گزارنے کی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں*
*تعلیم،صحت،سڑکیں،نادرا سینٹر،بے روزگاری،زراعت،پینے کا پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی نہ ہونے کے برابر ہیں*
*آج کی اس تحریر میں سخت گرمی میں پینے کے پانی کے بحران پر چند تاثرات درج کرونگا*
*پانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے جس کے بغیر زندگی جینا ناممکن ہے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور اور چرند پرند کی زندگی بھی پانی پر منحصر ہے*
*ضلع لسبیلہ کی تحصیل لاکھڑا میں پینے کے پانی کا بحران ہمیشہ سے جاری ہے تحصیل لاکھڑا کے اکثر موضع جات میں پینے کا پانی میسر نہیں مکمل تحصیل کا احاطہ ممکن نہیں لیکن لاکھڑا کے موضع اوباہ نمبر 2 اور 3 کی مثل کرب بلا حالت میرے سامنے ہے مئی کی اس سخت گرمی میں انسان اور جانور پانی کی بوند بوند کے لیے کس طرح تڑپ رہے ہیں ان کی تڑپ الفاظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی ہے*
*سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اور موجودہ وفاقی وزیر برائے تجارت نواب آف لسبیلہ میر جام کمال خان عالیانی نے موضع اوباہ نمبر 1-2 اور 3 کے عوام کی تکالیف کو مدِنظر رکھتے ہوئے مذکورہ موضع جات کے لیے 22 کروڑ کی خطیر رقم سے چانکارہ سے واٹر سپلائی بور منظور کئے چانکارہ سے لے کر عیسیٰ برادیہ گوٹھ اوباہ لیاری تک پائپ لائن بچھائی گئی مختلف گوٹھوں میں واٹر ٹینکیاں بنائی گئیں*
*ابتدائی کچھ عرصہ بہترین انداز میں پانی کی سپلائی جاری رہی کسی حد تک پانی کا بحران ختم ہوچکا تھا*
*پھر ضمنی الیکشن کے بعد سے اچانک لاکھڑا کے موضع اوباہ نمبر 2 اور 3 میں بلاتعطل پانی کی فراہمی بند ہوگئی*
*پانی کی فراہمی بند ہونے کی وجہ ڈیزل کی عدمِ دستیابی اور لمبی مسافت کے باعث سولر سسٹم کے ذریعے مذکورہ موضع جات تک پانی کی رسائی ممکن نہیں بتائی جاتی رہی۔*
*پھر ہفتے میں ایک دن پانی دیا جاتا رہا عوام الناس کا گزارہ ہوتا رہا جیسے ہی مئی کا مہینہ شروع ہوا پانی کی فراہمی یکسر تعطل کا شکار ہوگئی*
*اس وقت لاکھڑا کے موضع اوباہ نمبر 2 اور 3 کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور اور چرند پرند بھی پیاس سے تڑپ رہے ہیں*
*لوگ اس جھلسا دینے والی گرمی میں چھ-سات کلومیٹر کی مسافت طے کرکے گدھوں پر اوباہ نمبر 1 میں موجود گوٹھ کی ٹینکیوں اور سرکاری ٹینکیوں سے پانی کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں*
*22 کروڑ کی خطیر رقم سے بننے والے بوروں کا یوں اچانک بند ہونا حیران کن ہے مئی کی سخت گرمی میں اچانک پانی کی فراہمی تعطل کا شکار ہونے سے کئی سوالات اور شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں*
*سیاسی انتقام یا ذاتی انا کی تسکین؟*
*واٹر سپلائی پر مامور عملے کی من مانی یا ڈیزل کی عدمِ دستیابی؟*
*جو کچھ بھی ہے لیکن اس کا حل کیسے نکلے اور کون نکالے گا؟*
*علاقائی معززین،لاکھڑا پریس کلب اور سوشل میڈیا ورکرز کی چیخ و پکار کے باوجود محکمہ پبلک ہیلتھ لسبیلہ خوابِ غفلت جاگ نہیں پایا*
*لہذا علاقہ مکینوں نے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان عالیانی،ایم پی اے میر زرین خان مگسی اور ڈی سی لسبیلہ محترمہ حمیرہ بلوچ سے اپیل کی ہے کہ عوام الناس کی مشکلات کو مدِنظر رکھتے ہوئے محکمہ پبلک ہیلتھ لسبیلہ کو غفلت کی نیند سے جگائیں اور 22 کروڑ کی خطیر رقم سے بننے والے واٹر سپلائی بوروں کی ناکامی کے پیچھے جو بھی وجوہات ہیں ان پر مکمل انکوائری کریں محکمہ پبلک ہیلتھ انجئیرنگ آفیسر،ایکسین اور دیگر ذمہ داران سے اس مجرمانہ غفلت پر سختی سے جواب طلبی کریں اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں