بطور ریاست قوم کی ذمہ داریاں
بطور ریاست پاکستان کو وجود میں آ ئیے 76 سال کا عرصہ ہو چکا وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہمارا ملک آ ج بھی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ہماری معیشت تباہ حال ہے اور کرپشن و دہشت گردی کا ناسور ملک کو کھائے جا رہا ہے۔بیروزگاری اور مہنگائ نے کمر توڑ کے رکھ دی ہے اور ہمارا ملک کشکول لیکر آئ ایم ایف کے پاس کھڑا ہے۔قوم میں مایوسی ہے حالانکہ وسائل اور ساحل کے لحاظ سے پاکستان مالا مال ملک ہے۔ہمیں بحیثیت قوم اپنی زمہ داریوں کو سمجھنا ہو گا جب قوم کی بات آ تی ہے تو ہر پاکستانی شہریت رکھنے والے پہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے پھر وہ چاہے اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا ایوان اقتدار سے یا ایوان حزب اختلاف سے سب کو پاکستان کے لئیے سوچنا بھی ہو گا اور فکر بھی کرنی ہو گی۔
اس ملک اور اس قوم کا ہر فرد جانتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے ملک سے مخلص نہیں ۔جو شعبے یا جو ادارے کمزور پڑ جاتے ہیں ان کی کمزوری میں سب سے زیادہ ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں ۔من حیث القوم 76 سالہ پاکستانی زندگی میں ہم اپنی روش نہ بدلی سکے تو پھر ملکی ترقی اور مضبوط ریاست کی تکمیل کیسے ممکن ہوتی۔پاکستان کے لئیے ہمارے اسلاف نے جو قربانیاں دیں ان کا احساس تو دور کی بات ہم احساس کی الف اور ب سے ہی اب تک نا واقف ہیں۔ہمارے اسلاف کے بعد جنہوں نے آ زاد ریاست کا قیام ممکن بنایا اس کے بعد اسکی بقاء اور سلامتی کے لئیے جو آ ج بھی قربانیاں اور شہادتیں دے رہے ہیں ہم ان کی قدر بھی نہیں کر پا رہے۔ملک کے لئیے قربان ہونے والے شہداء اپنی جانیں اس لئیے قربان نہیں کرتے اور شہادت نہیں پاتے کہ جس کے تحفظ کو اپنی جان و مال سے زیادہ مقدم جانا اس ملک میں کرپشن٫سفارش٫ناانصافی٫بنیادی حقوق کی عدم فراہمی٫عدم برداشت٫انتشار٫معاشی عدم استحکام اور اس کے منفی اثرات تمام شعبوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہوں ۔
یہ شہداء کے خون سے انصاف نہیں جب یہ سب کچھ ہو رہا ہو تو پھر خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور منزلیں دور پڑ جاتی ہیں۔ملک میں تعلیمی زبوں حالی کو دیکھ لیں ٫تھانہ کلچر کو دیکھ لیں ,مسند انصاف کے ترازو کے پلڑوں کا جھکاؤ دیکھ لیں ٫سیاست کے میدانوں کے کھلاڑیوں کا کھیل دیکھ لیں ٫صحت اور بنیادی ضرورتوں کے حالات دیکھ لیں ٫مہنگائ ٫بیروزگاری کو دیکھ لیں اور احساس کر لیں کہ اس نازک دور میں عوام اور ملک کو پہچانے والے مسند اقتدار پہ باریاں تو لے رہے ہیں ٫اپنے بینک بیلنس بڑھا رہے ہیں ٫لیکن اس سب میں ملکی مفاد نظر نہیں آ رہا بلکہ ذاتی مفاد پرستی اور اقتدار کی ہوس زیادہ نظر آ رہی ہے۔ریاست کمزور ہوتی چلی گئ٫مسائل ٫مشکلات ٫چیلنجز اور بحرانوں کو کبھی ختم کرنے کی کوشش نہ کی گئ بلکہ ان سے نظریں چرائ گئیں۔اپنے ذاتی مفادات کی خاطر قومی اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالا گیا۔انتشار کو اپنے مفادات کی خاطر ہوا دی جانے لگی ۔دہشت گردی کی جنگ میں افواج پاکستان کے جوان اور آ فیسرز شہید ہوتے رہے اور غیر سنجیدہ عناصر اپنی زمہ داریوں سے غافل رہے۔دشمن پاکستان پہ اور اساس پاکستان پہ حملہ آ ور تھا اور ہم انتشار کی سیاست کرتے رہے۔دہشت گردی ملک میں پروان چڑھتی رہی اور ملکی سیاستدان آ پس میں الجھتے رہے۔دہشت گردی کے خلاف ہماری افواج اور قوم اپنے جوانوں اور افسروں کو شہادت کے مرتبے پہ پہنچتے ہوئے دیکھتی رہی۔
یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس اسکوپ نہیں بلکہ اس ملک کا مثبت امیج اجاگر کرنے کی کوئ کوشش نہیں کی گئ۔یہ خوبصورت اور وسائل سے مالا مال ملک اس ملک کی اشرافیہ کی بے حسی اور خود غرضی کی نظر ہو گیا۔دل خون کے آنسو روتا ہے جب ایک مزدور اپنے اوزار لیکر مزدوری کے لئیے نکلتا ہے تو اس کے چہرے پہ اپنے مسائل اور پریشانیوں کی ایسی چھاپ ہوتی ہے کہ خوشی نظر نہیں آ تی اگر مزدوری ملی تو ٹھیک نہیں تو بے بسی کے گہرے سائے۔
اس ریاست کو اس مقام تک پہچانے والے خود غرض اور مفاد پرست و بے حس لوگوں نے اس ملک کے معماروں کے چہروں سے خوشیاں تک چھین لیں ۔اس قوم اور عوام کی مشکلات اتنی زیادہ ہیں کہ انہیں اس سے غرض نہیں کہ کہ کون خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے آ رہا ہے ٫کون جیل میں ہے اور کون سیاست کے کھلاڑیوں کی آپسی رسہ کشی اور ایک دوسرے پہ الزامات کی سیاست کا حصہ ہے۔عوام کے دگرگوں حالات نے انہیں اس نہج پہ لا کھڑا کیا ہے کہ اپنے بچوں کو تعلیم ٫صحت کے خرچے بجلی کے بلز اور زندگی گزارنے کے لالے پڑ گئے ہیں۔
بطور ریاست اس ریاست کو باریاں لینے والوں نے اس نہج پہ پہنچایا۔
شخصیت پرستی کی پرستش کرنے والی اس قوم نے بھی اپنے ساتھ نا انصافی کی۔
حالات مشکل ضرور ہیں لیکن ایک قوم بن کر اور متحد ہو کر ان حالات سے نکل سکتے ہیں ۔
اگر ملک میں دہشت گرد گروہ ملکی سلامتی کے لئیے خطرہ ہیں تو یہ رستا ہوا زخم ہے جسے قوم بن کر شکست دینی ہو گی اس کے علاؤہ کوئ دوسرا راستہ نہیں اپنی افواج کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دیں نہیں تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔الیکشن آ رہے ہیں سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں ۔
آ ج اس ریاست کو ایک متحد و منظم قوم کی ضرورت ہے جو ملک سے کرپشن کی لعنت کو ختم کرنے اور سفارشی کلچر کو پروان چڑھنے سے روکے۔ادارے مضبوط ہونگے تو ریاست ترقی کرے گی۔اپنی آ نیوالی نسلوں کے لئیے روشن مستقبل پاکستان کی بنیاد رکھیں۔
تحریر#امیدعلی گچکی لسبیلہ