*محکمہ جنگلات کی ملی بھگت سے جنگلات کی کٹائی عروج پر پہنچ گئی*
*ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سید یاسین اختر کی اوتھل میں کارروئی قیمتی لکڑیوں سے لوڈ متعدد گاڑیاں تحویل میں لے لی گئیں،*
*اے ڈی سی لسبیلہ سید یاسین اختر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگلات کاٹنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے،لسبیلہ میں درخت بڑی بے دردی سے کاٹے جارہے ہیں،اگر اس تیزی سے جنگلات کی کٹائی کی گئی تو مستقبل میں ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے،محکمہ جنگلات لسبیلہ کے ملازمین ہزاروں روپے لیکر ایک ٹرک کا جعلی پرمنٹ جاری کرتے ہیں،ضلعی انتظامیہ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر پکڑی گئی گاڑیوں پر ایف آئی آر درج کریں گے۔*
*واضع رہے کہ محکمہ جنگلات لسبیلہ کی ملی بھگت سے روزانہ درجنوں گاڑیاں قیمتی درخت جن میں کیکر،نیم،جھار,کنڈی سمیت دیگر سے لوڈ ہوکر سندھ منتقل کی جاتی ہے،*
*لسبیلہ ضلع میدانی علاقہ اور جنگلات پر مشتمل ہے بیلہ جنگلات کو کہا جاتا ہے اور لس میدان کو کہا جاتا ہے لیکن لسبیلہ سے محکمہ جنگلات بیلہ کو مکمل ختم کرکے ریگستانی علاقہ میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں لگا پڑا ہے،عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔*