روہڑی(رپورٽر خان عبدالمجيد خان) روہڑی پی ایف یو اور سندھ ایکشن کمیٹی، سکھر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر دیگر شہروں کی طرح روہڑی میں بھی شہید صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کی گرفتاری، غیر اعلانیہ سینسر شپ اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں میں کٹوتی کے خلاف روہڑی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرکے شدید نعرے بازی کی اور صحافیوں نے نگراں حکومت سے شہید جان محمد مہر کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تفصیلات کے مطابق پی ایف یو کی سندھ ایکشن کمیٹی اور سکھر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر دیگر شہروں کی طرح روہڑی میں بھی شہید صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کی گرفتاری، غیر اعلانیہ سینسر شپ اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں میں کٹوتی کے خلاف روہڑی یونین آف جرنلسٹس کی صدر عبدالجواد عباسی، جنرل سیکریٹری جمشید احمد قریشی، ای ڈی گھنیو، نائب صدر راجا ریاض میمن حاصل جتوئی ودیگر کی قیادت میں روہڑی کے صحافیوں نے روہڑی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین کا کہا تھا کہ شہید صحافی جان محمد مہر کے قتل کو پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن سکر پولیس کی نااہلی کے باعث قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ سمیت دیگر ڈویژن کے چھوٹے بڑے پریس کلبوں کے سامنے صحافیوں کے احتجاجی دھرنے اور بھوک ہڑتالی کیمپ تاحال جاری ہیں لیکن نگران حکومت، آئی جی سندھ نے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا سکھر پولیس شھید صحافی کے قاتلوں کے سامنے بے بس نظر آرہے ہے صحافیوں کا مزید کہا کہ نگراں حکومت کو چاہیے کہ وہ شہید صحافی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے کچی میں پولیس کے ساتھ رینجرز آپریشن کرے اور شہید کے خون کے ساتھ انصاف کرے اور صحافیوں کو جانی و مالی تحفظ فراہم کرے جبکہ صحافیوں نے یہ کہا میڈیا ورکرز کی تنخواہوں میں کٹوتی کر کے صحافی برادری کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے جو کہ ناقابل برداشت فعل ہے صحافی برادری کی جانب سے میڈیا ورکرز کی تنخواہوں میں کٹوتی فوری بند کی جائے۔اس موقع پر سید عاطف شاہ، حسن عباس چنجن، سیف اللہ بلوچ، قمر الدین میرانی، عدیل احمد بلوچ، عبید اللہ لکھن، فیصل جتوئی، علی خان چنجن، نعمان یوسف، انور خاصخیلی، نبی بخش شر، عقیل خان، آغا خان اور دیگر شامل تھے.
95