شیخوپورہ( ملک آصف علی / عدیل مغل/ میاں فہیم/میاں زین علی سے ) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ اور مدر کئیر اینڈ چلڈرن کمپلیکس میں مریض اور انکے ورثاء ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے ہاتھوں ذلیل و خوار ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ میں ملتان سے پرویز الہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے ڈونیشن کے طور پر منگوائے گئے، خون پتلہ کرنےوالے ٹیکے غائب کلگزین ( clexane ) جنگی مالیت 75 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں کمپیوٹر آپریٹر ہسپتال کا ملازم تین تین کمپنیوں کا مالک اشتیاق احمد جو کمپیوٹر پرچی 2 روپے میں عوام کو ملتی وہ اس کا ٹینڈر 5 روپے کا ہوا تھا، جو ملی بھگت کی وجہ سے وہ اب سرکار کو 9روپے کی پڑ رہی ہے ، اشتیاق احمد ایک کروڑ 50 لاکھ روپے کے پرنٹنگ بل لئے پھر رہا ہے جو متعلقہ افسران کی ملی بھگت سے اچھی کیمشن کے عوض ریلیز ہونے کا خدشہ ہے، وزیر اعلی محسن نقوی، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان گجر، سیکرٹری صحت پنجاب علی جان ،کمشنر لاہور ڈویژن محمد علی رندھاوا اور ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ ڈاکٹر وقار علی خان سے کاروائی کا مطالبہ، اور ہر صورت میں آڈٹ کروانے کی اپیل باخبر ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں انسولین کی فروخت کا دھندہ عروج پر ، باخبر ذرائع کے مطابق مذکورہ ہسپتال کی ایک سرکاری کیری وین بھی ایک آفیسر کی آشیرباد سے لوڈر وین کے طور پر چلنے کا انکشاف ہوا، جسکی مرمت، تیل اور دیگر بلوں کا اندراج سرکاری لاگ بک پر باقاعدگی سے ہورہا ہے، چلڈرن ہسپتال میں ایمرجنسی لیبر روم کی داخلہ فارم پرچی فری ہونے کے باجوہ ڈاکٹرز افسران کی ملی بھگت سے مریضوں سے 50 روپے وصول کرنا معمول بن چکا ہے اور ادویات سرکاری سٹورز میں میسر ہونے کے باوجود باہر میڈیکل سٹورں منگوائے جانے کا انکشاف، اور سرکاری اوقات کار کے دوران دونوں ہسپتالوں میں میڈیکل ریپ سے ملی بھگت کرکے پرائیویٹ ادویات لکھائی جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے، ذرائع کے مطابق متعدد ڈاکٹرز سرکاری ادویات کی موجودگی میں بھاری کمیشن کے عوض پرائیویٹ میڈیکل سٹورز پر ملٹی وٹامنز لکھ کر بجھوا رہے ہیں ، اور مریضوں کو ادویات خریداری کے بعد دوبارہ چیک کرانے کی ہدایت کرتے ہیں، چلڈرن ہسپتال میں ایک ملازم جنرل ڈیوٹی پر مامور ہے مگر وہ ایڈمن کی ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نان پیرا میڈیکل سٹاف اسکو ہرماہ انکی پسندیدہ ڈیوٹی لگوانے کے عوض ہزاروں روپے نذرانہ لینے کا بھی انکشاف ہوا ہے، چلڈرن ہسپتال میں سٹاف نرسز ادویات موجود ہونے کے باوجود مریضوں کے ورثاء کو ادویات باہر میڈیکل سٹورز سے ڈریپ سیٹ سے لیکر ترما میٹر، اور دیگر ادویات منگوائے کا بھی انکشاف، شہر کے عوامی، سماجی، دینی، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ ڈاکٹر وقار علی خان سے فوری کاروائی کا مطالبہ اور تمام معاملات کا آڈٹ کرانےکی اپیل ، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آکسیجن کی کمی اور ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف کی لاپرواہی سے بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے ، تاہم مریضوں کے ورثاء کے تکرار پر لاہور ریفر کرنے کی دھمکیاں دینی شروع کر دیتے ہیں، ایمرجنسی وارڈ میں بیڈز کی کمی کی وجہ سے ایک بیڈ پر پانچ پانچ بچوں کو لٹایا جارہا ہے ،جسکی وجہ سے بچوں مزید بیماریوں کا حملہ ہوتا ہے ،
157