بلوچستان میں اندھیری نگری چوپٹ راج بار بار میڈیا کی نشانی دہی پر کو عصر نہ پڑ سکا
لاکھڑا:محکمہ جنگلات کے ضلعی آفیسر نے آنکھیں بندکردیں درختوں کی بے دریخ کٹائی اور لکڑیوں کی ترسیل عروج پر قیمتی درخت ناپید ہونے لگے لسبیلا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر قیتمی درخت کاٹے جارہے ہیں محکمہ جنگلات لسبیلا کے ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر کی ٹمبر مافیا سے مبینہ ملی بھگت کا انکشاف تفصیلات کے مطابق ضلع لسبیلا میں محکمہ جنگلات لسبیلا کے ڈی ایف او کی مبینہ ملی بھگت اور پشت پناہی سے ٹمبر مافیا نے اپنے آرے تیز کر دیئے
جس سے ناکہ آسانی زندگی اور ماحول متاثر ہونے خدشہ ہے بلکے اس سے جنگلی حیات پر بھی بہت برا اثر پر رہا ہے جس سے ہمارے ملک کے نایاب جنگلی حیات ملک کا قومی سرمایہ کو نقصان پہنچانے کے لیے محکمہ جنگلات کے افسران کا کردار بھی شامل ہے
تفصیلات کے مطابق
لاکھڑا کنراج ، اوتھل اور بیلہ میں ٹمبر مافیا نے ڈی ایف او کی مبینہ آشیرباد سے درخت کاٹ کاٹ کر چٹ کر دیئے ضلع لسبیلا سے کوئٹہ قلات مستونگ پشین اور کراچی سمیت دیگر شہروں کے لیے روزانہ درجنوں ٹرک لکڑیوں سے لوڈ کر کے غیر قانونی طریقے سے سپلائی کا سلسلہ زوروں سے جاری ہے عوامی حلقوں نے لسبیلا میں درختوں کی بے دریخ کٹائی اور اس حوالے سے باخبر ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ
ڈی ایف او لسبیلا کی ٹمبر مافیا کی پشت پناہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوۓ ڈی ایف او لسبیلا کی مبینہ ملی بھگت اور سکھا شاہی قرار دیا ہے ان حلقوں کا کہنا ہیکہ محکمہ جنگلات اور ٹمبر مافیا کے ماحول دشمن اقدامات سے نہ صرف لسبیلا سے قیمتی درختوں کا صفایا ہو رہا ہے بلکہ درختوں کی بے جا اور تیزی سے بڑھتی ہوئی کٹائی کے سبب ماحولیات پر بھی برے اور منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں لہذا حکومت وقت لسبیلا میں درختوں کی دھڑا دھڑ کٹائی اور ڈی ایف او لسبیلا کی چشم پوشی و مبینہ ملی بھگت اور ٹمبر مافیا کی پشت پناہی کا فی الفور نوٹس لے کر لسبیلا میں درختوں کی کٹائی اور آرامشینوں اور لکڑیوں کی ضلع سے باہر ترسیل پر پابندی عائد کی جائے۔