141

گجرات سی پی ڈی آئی نے “پاکستان میں بجٹ کی شفافیت کی صورتحال، بینبینb الاقوامی بہترین طرز عمل” پر اپنی چوتھی سالانہ رپورٹ جاری کر دی رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر بجٹ سازی کے عمل میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور بجٹ تجاویز پر شہری گروپوں، حکومتی اداروں

گجرات سی پی ڈی آئی نے “پاکستان میں بجٹ کی شفافیت کی صورتحال، بینبینb الاقوامی بہترین طرز عمل” پر اپنی چوتھی سالانہ رپورٹ جاری کر دی رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر بجٹ سازی کے عمل میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور بجٹ تجاویز پر شہری گروپوں، حکومتی اداروں اور اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اس رپورٹ کا مقصد صرف نتائج پیش کرنا نہیں ہے بلکہ حکومتوں، سول سوسائٹی اور بڑے پیمانے پر شہریوں کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو شہریوں کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اس پلیٹ فارم کو بجٹ کی پیچیدہ تفصیلات اس انداز میں پیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جانا چاہیے جو شہریوں کو آسانی سے سمجھ آسکے ۔ حکومتوں کو بجٹ کی تشکیل کے اہم مرحلے کے دوران ملک گیر عوامی مشاورت، بشمول ٹاؤن ہال میٹنگز اور ورکشاپس کے آغاز کو ترجیح دینی چاہیے۔ رپورٹ میں خواتین، اقلیتوں، بچوں اور معذور افرادکے لیے الگ الگ بجٹ اسٹیٹمنٹ تیار کرنے اور جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے،
سی این بی اے کی رکن تنظیم (سٹیزنز نیٹ ورک فار بجٹ اکاونٹیبلٹی) کے زیر اہتمام “شفاف بجٹ سازی پر اسٹیک ہولڈرز ڈائیلاگ” کے دوران منتخب نمائندوں، مقامی حکومتوں کے نمائندوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے
گجرات ڈسٹرک پاپولیشن افیسر عمر فاروق نے کہا گزشتہ ایک دہائی سے، سی پی ڈی آئی پاکستان میں بجٹ سازی کے عمل کو ضلع سے وفاقی سطح تک بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ اس میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔اس کے نتیجے میں “پاکستان میں بجٹ کی شفافیت کی صورتحال 2023” پر مبنی چوتھی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف بجٹ کی شفافیت کا جائزہ لیتی ہے
بجائے ۔ اس موقع پر چیئر مین سی آر جی راجہ نوبہار خان۔ٹرینر زاہد محمود اور فیصل منیر بھی موجود تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں