بلوچستان سے *_محکمہ جنگلات اوتھل کے افسر ڈی ایف او کی
ملی بھگت اور دیدہ دلیری سے لکڑی کے گاڑیوں سے بھتہ وصولی جاری بالا افسران کی خاموشی سمجھ سے بالاتر_*
تفصیلات کے مطابق
*_جنگلات کی کٹائی پر پابندی ہونے کے باوجود محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے جنگلات کی کٹائی کرنا متعلقہ محکمے کیلئے سوالیہ نشان ہے
جس پر سیاسی و سماجی اور سیول سوسائٹی کی عوام نے سیکٹری جنگلات اور چیف سیکریٹری جنگلات سے اپیل کی ہے ہے اس کرپشن کی جڑ کو ختم کرنے کے لیے مطعلقہ ڈی ایف او کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے
اوتھل//زیر نظر تصاویر مین RCD روڈ کانٹا پل کے نزدیک واقع لکڑی ٹال کی ہے
جہاں پر نایاب لکڑی ببل کٹائی کے بعد اندرون بلوچستان و سندھ سپلائی کی جاتی ہے
جس پر محکمہ جنگلات کی جانب سے پابندی عائد ہے لیکن محکمہ جنگلات اوتھل کے ڈی ایف او
اور دیگر
آفیسران کی ملی بھگت سے بے
خوف اور دیدہ دلیری سے گاڑی لوڈ ہو رہی ہے اور یہ لکڑیاں
مین آر سی ڈی روڈ سے ہوتے ہوئے حب و کراچی سمیت سندھ فروخت کی جاتی ہیں
جبکہ جگہ جگہ جنگلات سہولت کار بھتہ بھی وصول کرتے ہیں۔
با ذرائع نے انکشاف کیا ہےکہ چند روز قبل اسی مقام سے محکمہ جنگلات کے آفیسر عمران بلوچ اور لطیف نامی اہلکار نے لوکل سطح پر دیہی کی لکڑی کی گاڑی کو پکڑا تھا حالانکہ دیہی کی لکڑی پر کوئی بھی پابندی نہیں ہے لیکن وجہ لکشمی کی تھی۔باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ
اندرون بلوچستان اور سندھ سپلائی کی جانے والی ان نایاب لکڑی والی گاڑیوں سے محکمہ جنگلات اوتھل کے مزکورہ
آفیسر اور اہلکار کی جانب سے فی من 20 روپے کے حساب سے بھتہ لیا جاتا ہے جس کی واضح مثال پابندی ہونے کے باوجود زیر نظر گاڑی ہے جو کہ مین RCD روڈ پر بے خوف اور دیدہ دلیری سے لوڈ کی جارہی ہے جبکہ مقامی اشخاص اگر گھریلو استعمال کے لئے لوکل سطح پر دیہی کی لکڑی کا کاروبار کرے تو انہیں مزکورہ آفیسر اور اہلکار کی جانب سے ناجائز اور بھتہ نہ دینے کی صورت میں ان پر چالان کرنے اور قانونی کاروائی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں
۔محکمہ جنگلات کی کٹائی پر پابندی ہونے کے باوجود نایاب لکڑیوں کے کٹائی کا
بغیر کسی خوف کے عمل جاری رکھنا محکمہ جنگلات کیلئے سوالیہ نشان ہے
۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ پابندی عائد ہونے کی صورت میں کس قانون کے تحت روزانہ کی بنیاد پر نایاب لکڑیوں سے لوڈ گاڑیاں مین آر سی ڈی روڈ وندر و حب کے حدود سے گزر کر کراچی جاتی ہیں کیا مبینہ بھتہ وصولی قانونی پابندی سے بالاتر ہے_
*_لسبیلہ کے جنگلات سے کٹائی ہونے کے بعد کس طرح وندر اور حب کے حدود سے لکڑیوں سے لوڈ گاڑیاں گزر کر کراچی سپلائی کی جاتی ہیں
مذید انکشافات جلد ثبوت کے ساتھ منظرعام پر لایا جائے گا۔_*