141

ضلع موسی خیل راڑہ شم سے راڑہ شم جہاں سے رپوٹ کر رہیے ہیں ہمارے بیورو چیف محمد یار بلوچستان کا ضلع موسی خیل گندم اور سبزیوں کی پیداوار میں اپنی مثال آپ ھے وہیں پر راڑہ شم زیتون کے پیداوار میں بھی ملک کے کسی بھی حصے سے پیچھے نہیں گزشتہ سال ملک احمد خان کے زیتون کے باغ جوکہ برگ زیتون کے نام سے مشہور ہے

خبر شامل کرتے ہیں ضلع موسی خیل راڑہ شم سے راڑہ شم جہاں سے رپوٹ کر رہیے ہیں ہمارے بیورو چیف محمد یار بلوچستان کا ضلع موسی خیل
گندم اور سبزیوں کی پیداوار میں اپنی مثال آپ ھے
وہیں پر

راڑہ شم زیتون کے پیداوار میں بھی ملک کے کسی بھی حصے سے پیچھے نہیں گزشتہ سال ملک احمد خان کے زیتون کے باغ جوکہ برگ زیتون کے نام سے مشہور ہے

پورے ملک میں دوسرے نمبر پر آیا تھا ضلع موسی خیل میں زیتون کی تقریبا بیس ہزار سے زائدہ درخت ہیں لیکن بدقسمتی سے ضلع موسی خیل خاص کر راڑہ شم کے زیتون کے زمینداروں کو محکمہ ایگریکلچر یا حکومت بلوچستان کی طرف سے کوئی سہولت نہیں دی جاتی

پہلی بات زیتون کے درختوں کو پانی دینے کے لیے زمینداروں کو ڈرپ ایریگیشن سسٹم کی فوری ضرورت ہے زمیندار زیتون کے درختوں کو پانی دینے کے لیے فلڈنگ کا طریقہ استعمال کر رہے ہیں فلڈنگ کے ذریعے درختوں کو پانی دینے سے 80 فیصد پانی ضائع ہوجاتا ھے اور دوسری بات ضلع موسی خیل میں آئل پراسیسنگ یونٹ موجود نہیں یہاں کے مقامی زمیندار زیتون کے دانوں کو کاٹنوں میں بند کر کے لورالائی کوئٹہ یا چکوال لے جاتے ہیں اور وہاں سے تیل نکالوانا پڑتا ہے

واضح رہے کہ زیتون کے دانوں سے اگر 24 گھنٹے کے اندر آئل نہ نکالا جاے تو وہ 100 فیصد رزلٹ نہیں دیتے زیتون کے درختوں کے پتے سے قیمتی چائے کی پتی بھی بنتی ہے جس کے لیے لیف گرینڈ مشین کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی سواٸے ایک زمیندار کے باقی راڑہ شم کے زمیندارں کو میسر نہیں رڑہ شم کے ایک مقامی زمیندار محمد اسلم بزدار نے سرعام سی آئی ڈی انٹرنیشنل ٹی وی چینل سے گفتگو کر تے ھوٸے کہا کہ ہمیں زیتون کے درختوں کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی بھی سہولیات نہیں دی گئی ہم نے زیتون کے پودے بھی اپنے پیسوں سے خریدے باڑ کا خرچہ بھی خود برداشت کیا حکومت کی طرف سے ہمیں ایک کٹر بھی نہیں دیا گیا اور نہ ہی ہمیں حکومت کی طرف سے درختوں کے لیے کھاد اور سپرے دی گئی ہے

اور ہر زمیندار کو نئے پودے لگانے کے لیے گرین ہاؤس کی ضرورت ھوتی ہے وہ بھی ہمارے پاس موجود نہیں محمد اسلم نے گفتگو کرتے ھوٸے کہا کہ ہم حکومت بلوچستان سے

اپیل کرتے ہیں کہ خدارا زیتون کے زمینداروں کی طرف بھی نظر کرم کی جاٸے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں