خبر شامل کرتے ہیں ضلع موسی خیل راڑہ شم سے راڑہ شم جہاں سے رپوٹ کر رہیے ہیں ہمارے بیورو چیف محمد یار بلوچستان کا ضلع موسی خیل
گندم اور سبزیوں کی پیداوار میں اپنی مثال آپ ھے
وہیں پر
راڑہ شم زیتون کے پیداوار میں بھی ملک کے کسی بھی حصے سے پیچھے نہیں گزشتہ سال ملک احمد خان کے زیتون کے باغ جوکہ برگ زیتون کے نام سے مشہور ہے
پورے ملک میں دوسرے نمبر پر آیا تھا ضلع موسی خیل میں زیتون کی تقریبا بیس ہزار سے زائدہ درخت ہیں لیکن بدقسمتی سے ضلع موسی خیل خاص کر راڑہ شم کے زیتون کے زمینداروں کو محکمہ ایگریکلچر یا حکومت بلوچستان کی طرف سے کوئی سہولت نہیں دی جاتی
پہلی بات زیتون کے درختوں کو پانی دینے کے لیے زمینداروں کو ڈرپ ایریگیشن سسٹم کی فوری ضرورت ہے زمیندار زیتون کے درختوں کو پانی دینے کے لیے فلڈنگ کا طریقہ استعمال کر رہے ہیں فلڈنگ کے ذریعے درختوں کو پانی دینے سے 80 فیصد پانی ضائع ہوجاتا ھے اور دوسری بات ضلع موسی خیل میں آئل پراسیسنگ یونٹ موجود نہیں یہاں کے مقامی زمیندار زیتون کے دانوں کو کاٹنوں میں بند کر کے لورالائی کوئٹہ یا چکوال لے جاتے ہیں اور وہاں سے تیل نکالوانا پڑتا ہے
واضح رہے کہ زیتون کے دانوں سے اگر 24 گھنٹے کے اندر آئل نہ نکالا جاے تو وہ 100 فیصد رزلٹ نہیں دیتے زیتون کے درختوں کے پتے سے قیمتی چائے کی پتی بھی بنتی ہے جس کے لیے لیف گرینڈ مشین کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی سواٸے ایک زمیندار کے باقی راڑہ شم کے زمیندارں کو میسر نہیں رڑہ شم کے ایک مقامی زمیندار محمد اسلم بزدار نے سرعام سی آئی ڈی انٹرنیشنل ٹی وی چینل سے گفتگو کر تے ھوٸے کہا کہ ہمیں زیتون کے درختوں کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی بھی سہولیات نہیں دی گئی ہم نے زیتون کے پودے بھی اپنے پیسوں سے خریدے باڑ کا خرچہ بھی خود برداشت کیا حکومت کی طرف سے ہمیں ایک کٹر بھی نہیں دیا گیا اور نہ ہی ہمیں حکومت کی طرف سے درختوں کے لیے کھاد اور سپرے دی گئی ہے
اور ہر زمیندار کو نئے پودے لگانے کے لیے گرین ہاؤس کی ضرورت ھوتی ہے وہ بھی ہمارے پاس موجود نہیں محمد اسلم نے گفتگو کرتے ھوٸے کہا کہ ہم حکومت بلوچستان سے
اپیل کرتے ہیں کہ خدارا زیتون کے زمینداروں کی طرف بھی نظر کرم کی جاٸے