خبر شامل کرتے ھیں ضلع موسی خیل راڑہ شم سےضلع موسی خیل بلوچستان کا ایک ضلع ھونے کے باوجود تمام تر سہولیات سے محرم ھے سب سے بڑی بنیادی ضرورت صحت ھے مگر ضلع موسی خیل میں اس درجے کا بڑا ھسپتال موجود ہی نہیں جہاں سے لوگ اپنے مریضوں کا علاج کرواسکیں
اگر خواتین کی ڈلیوری کیسز کا معاملہ ھوں یا کوٸی اور بیماری تو موسی خیل والوں کو ڈیرہ غازی خان یا ملتان جانا پڑتا ھے زیر تصویر
یہ پٹھان عرصہ دراز سے کینسر کا مرض میں مبتلا ھے اس کے گھر میں جو جمع پونجی تھی وہ تو اس نے اپنے علاج معالجہ میں خرچ کرڈالی آخر کار اس کے گھر والوں
نے تھک ھار کر انہیں ایک پیر کے دربار میں چھوڑ دیا تاکہ وہ دم درود اور تعویزات کے زریعے اس کا علاج ھو سکے
اس متاثرہ شخص نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ بلوچستان حکومت سے تک میری آواز پہنچانے کے لیے میرے ساتھ تعاون کریں تاکہ حکومت اپنے زریعے سے میرا علاج شوکت خانم یا کسی بڑے کینسر ھسپتال میں کروائے
متاثرہ شخص کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کرپٹ نظام سے میں
مایوس ھوچکا تھا دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ سرکار کچھ نہیں دیتی یہ ضلع صرف اور صرف امیروں کے لیے ہے یہاں انسانی زندگیاں سسک سسک کر مر رہی ہیں نچلے درجے کے لوگ بہت ہی کٹھن زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں
محمد یار بزدار سرعام سی آٸی ڈی نیوز راڑہ شم