212

ضلع موسی خیل بلوچستان کا ایک ضلع ھونے کے باوجود تمام تر سہولیات سے محرم ھے سب سے بڑی بنیادی ضرورت صحت ھے مگر ضلع موسی خیل میں اس درجے کا بڑا ھسپتال موجود ہی نہیں جہاں سے لوگ اپنے مریضوں کا علاج

خبر شامل کرتے ھیں ضلع موسی خیل راڑہ شم سےضلع موسی خیل بلوچستان کا ایک ضلع ھونے کے باوجود تمام تر سہولیات سے محرم ھے سب سے بڑی بنیادی ضرورت صحت ھے مگر ضلع موسی خیل میں اس درجے کا بڑا ھسپتال موجود ہی نہیں جہاں سے لوگ اپنے مریضوں کا علاج کرواسکیں

اگر خواتین کی ڈلیوری کیسز کا معاملہ ھوں یا کوٸی اور بیماری تو موسی خیل والوں کو ڈیرہ غازی خان یا ملتان جانا پڑتا ھے زیر تصویر
یہ پٹھان عرصہ دراز سے کینسر کا مرض میں مبتلا ھے اس کے گھر میں جو جمع پونجی تھی وہ تو اس نے اپنے علاج معالجہ میں خرچ کرڈالی آخر کار اس کے گھر والوں
نے تھک ھار کر انہیں ایک پیر کے دربار میں چھوڑ دیا تاکہ وہ دم درود اور تعویزات کے زریعے اس کا علاج ھو سکے

اس متاثرہ شخص نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ بلوچستان حکومت سے تک میری آواز پہنچانے کے لیے میرے ساتھ تعاون کریں تاکہ حکومت اپنے زریعے سے میرا علاج شوکت خانم یا کسی بڑے کینسر ھسپتال میں کروائے

متاثرہ شخص کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کرپٹ نظام سے میں

مایوس ھوچکا تھا دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ سرکار کچھ نہیں دیتی یہ ضلع صرف اور صرف امیروں کے لیے ہے یہاں انسانی زندگیاں سسک سسک کر مر رہی ہیں نچلے درجے کے لوگ بہت ہی کٹھن زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں

محمد یار بزدار سرعام سی آٸی ڈی نیوز راڑہ شم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں