محکمہ معدنیات اینڈ مائنز ڈیپارٹمنٹ میں چھ تاریخ کو اکشن ہونے والا تھا جو کہ اب تک نہیں ہو سکا ابھی یہ جو ہے روزانہ کی بنیاد پر ریتی بجری وغیرہ ڈیلی ویز کی بنیاد پر ٹھیکدار کو دیا گیا ہے جو کہ فی دن چھ سے سات لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پر جمع کیا ہو رہا ہے ان پیسوں میں سے صرف سرکاری مد میں ذرائع کے مطابق 84 لاکھ روپے بنتے ہیں 12 دن کے کتنے جمع ہوئے ہیں اور کتنے ان کے جیبوں میں گئے یہ معدنیات اینڈ مائنز ڈیپارٹمنٹ کے اکاؤنٹ میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپپہ اکاؤنٹ میں جمع ہوے ہیں اب دال کالی ہے یا دال میں کچھ کالا ہے نہ ہی اپنے ڈائریکٹر کو اسکے متعلقہ بتایا گیا ہے اور نہ ہی پیسوں کی تفصیل دی گی ہے اور نہ بقایہ پیسے جو وہ معدنیات اینڈ مائنز ڈیپارٹمنٹ حب کے افسر اسسٹنٹ رئلٹی محمد دین موندرہ اور ان کے اسٹاپ افسران اپنے جیبوں میں برتے ہیں ڈی جی عبداللہ شاھوانی ڈائریکٹر اسسٹنٹ ناصر شیخ ڈائریکٹر امیر حسین لاسی اتنی رقم کو رشوت کے مد میں رکھتے ہیں سیکرٹری معدنیات اور نگراں وزیر عمیر محمد حسنی ان کے خلاف نوٹس لیں ورنہ روزانہ کے بنیاد پر بلوچستان مائنز ڈیپارٹمنٹ کو کروڑوں روپے کا نقصان ھوتا رہے گا
208