217

سسپینڈ اہلکاران کی نشاندہی کی گئی تھی کے سٹی کہ تھانوں میں اسپیشل پارٹیاں و دیگر سنگین جرائم کو آپریٹ کرنے اور منشیات فروشی کی سرپرستی کرنے شاٹ ٹرم گڈنیپنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا

محکمہ پولیس
ڈسٹرکٹ *سٹی*
ساؤتھ زون،

سسپینڈ اہلکاران کی نشاندہی کی گئی تھی کے سٹی کہ تھانوں میں اسپیشل پارٹیاں و دیگر سنگین جرائم کو آپریٹ کرنے اور منشیات فروشی کی سرپرستی کرنے شاٹ ٹرم گڈنیپنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا،

نشاندہی کے بعد ہیڈ کواٹر میں ڈیورٹی مکمل ہونے کے بعد دوبارہ سٹی کے تھانوں میں سسپینڈ اہلکاران بدستور اپنی ریاست قائم کرنے کے لیئے پہنچ جاتے ہے جس پر عوامی سروے نے ایک بار پھر نشاندہی کرواکر حیران کردیا باقاعدہ سٹی کے 12 تھانوں میں سے *آٹھ* تھانوں کی نشاندہی کروائی گئی ہے،

کراچی/(کرائم رپورٹر) سسپینڈ اہلکاران کی نشاندہی ہوتے ہی اعلی افسران نے تمام کھانچے پر حاضری سے استثنیٰ حاصل کرنے والے سسپینڈ اہلکاران کو طلب کرکے اعلی افسران کو رپورٹ جمع کروادی دوسری جانب ہیڈ کواٹر ڈیورٹی ختم ہوتے ہی سسپینڈ اہلکاران سٹی کے تھانوں میں پہنچ کر اپنی ریاست بناکر سنگین جرائم کی سرپرستی کرتے ہوئے پائے گئے ہے سروے میں بتایا گیا ہے کہ باقاعدہ سسپینڈ پولیس اہلکار اسپیشل پارٹی چلاتے ہے اور رات کی اوقاف میں شاٹ ٹرم گڈنیپنگ کرکے شہریوں سے تاوان کی وصولی کرتے ہے سٹی میں اسپیشل پارٹی چلانے والے سسپینڈ پولیس اہلکاروں نے باقاعدہ تین مقامات ہیڈ کواٹر بنا رکھے ہے جس میں پہلا ہیڈ کواٹر سٹی کورٹ تھانہ بتایا جاتا ہے جہاں معزز عدالت عظمیٰ کا احاطہ ہے دوسرا ہیڈ کواٹر کلاکوٹ تھانے کے اوپر پینٹ ہاؤس ہے جہاں تاوان کی وصولی باآسانی کی جاتی ہے تیسرا عید گاہ اور رسالہ تھانے کے ساتھ خفیہ گراؤنڈ ہے جہاں کنٹینر رکھے ہوئے ہے ان کنٹینروں کے پیچھے شہریوں کو چھپاکر رکھا جاتا ہے اور باقاعدہ ان کی فیملی اور عزیز و اقارب سے تاوان کی وصولی کی جاتی ہے محکمے پولیس کا نرالہ دستور اور پرانی روایت برقرار ہے سسپینڈ اہلکاران کا گٹھ جوڑ واضع ہے آٹھ تھانوں میں اسپیشل پارٹیاں چلائی جاتی ہے جس میں پی ایس *کلاکوٹ،چاکیواڑہ، سٹی کورٹ، عید گاہ، رسالہ، میٹھادر، نبی بخش* شامل ہے باوسوق ذرائع نے بتایا سسپینڈ اہلکاران ہیڈ کواٹر میں ڈیورٹی کرتے ہے ان کے اوپر سنگین الزامات درج ہے اور باقاعدہ ان اہلکاران کی انکوائریاں محکمہ پولیس کے اعلی افسران کے پاس زیر سماعت ہے مگر افسوس کے محکمے کا نرالہ دستور عجیب طرز کا ہے انکوئری جاری رہنے کے باوجود یہی اہلکاران سٹی کے تھانوں میں شام پانچ بجے کے بعد دوبارہ پہنچ جاتے ہے اور باقاعدہ وہی روایت کے مطابق اسپیشل پارٹیاں چلاتے ہے جرائم کی سرپرستی کرتے ہے منشیات فروشی کی سرپرستی کرتے ہے جرائم کو آرگنائز کرتے ہے رات کو شاٹ ٹرم گڈنیپنگ کرکے ہیڈ کواٹر منتقل کرکے تاوان کی وصولی کرتے ہے باقاعدہ ان تھانوں کے ہاؤس اسٹیشن آفیسر سرکاری موبائیل بھی فراہم کرتے ہے جن کا پولیس کے بااعتماد زرائع کنفورم کررہیں ہے اور ہاؤس اسٹیشن آفیسر کو خوش رکھنے کے لیئے شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے اور ان کی فیملیوں کو تشدد کی آواز سناکر لاکھوں روپیے بٹورتے ہے سٹی کی عوام نے سسپینڈ اہلکاران کی سٹی کے تھانوں میں پیش قدمی اور سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد بھی اعلی افسران کو دینے کی استدعا کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی خادم حسین رند ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا ایس ایس پی سٹی امجد حیات سے پرزور مطالبہ کیا کہ سسپینڈ پولیس اہلکار کا ڈسٹرکٹ سٹی میں اس طرح کا عمل انسانی حقوق کی پامالی اور محکمے پولیس کو بدنام کرنے کے مترادف بتائی جاتی ہے آخر اس کے سدباب کے لیئے کیا خدمت سرانجام دیئے جاتے ہے یہ ان کی ایمانداری اور محکمے سے وفاداری پر چھوڑ دیتے ہے سسپینڈ پولیس اہلکار کا ڈسٹرکٹ کے تھانوں میں اسپیشل پارٹی کا وجود اور جرائم کی سرپرستی شدید تشویش ناک عمل ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں