گرمی کربلا بنتے بنتے گزر گئی جاڑا آیا مگر پھر بھی لائنوں میں پانی نہ آیا آلہ آباد ٹاؤن سمیت حب شہر کے بیشتر علاقے پینے کے پانی سے محروم ہیں حب انتظامیہ ماضی میں دہرائی گئی غلطیوں کا احتساب کرے اور حب کے عوام کو پانی فراہم کرے اس سے پہلے کہ ہم حب کے عوام کے ساتھ ملکر احتجاج کا لائحہ عمل بنانے پر مجبور ہو جائیں
ان خیالات کا اظہار پیپلز یوتھ کے سرکردہ رہنماء میر اسحاق ریکی نے نوجوانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ
دور بدل گئے مگر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور ایریگیشن افسران کے رویئے نہیں بدلے معزز جج صاحبان کے احکامات کو پس پشت ڈالنے والے اب عوامی غیض وغضب سے نہیں بچ سکتے ماہانہ لاکھوں روپے مینٹیننس پر خرچ ہونے کے باوجود حب کینال کے پانی کو فروخت کیا جارہا ہے اب بھی درجنوں واٹر ٹینکر رات کی تاریکی پھیلتے ہی حب ندی کے مخصوص راستوں سے پار ہو جاتے ہیں جیسے چھالیہ اور گٹکا ماوا کی اسمگلنگ کی جارہی ہو عوام کے آنکھوں میں اب مزید دھول جھونکنے کی گنجائش باقی نہیں رہا بار ہا نشاندھی ہونے کے باوجود بہتے کینال سے حب کے عوام کو پینے کے پانی تک ترسایا جارہا ہے
حب کینال کے بہتے پانی میں کرپشن کے غوطے لگائے والے عوامی فرائض کی ادائیگی میں مسلسل ناکام دکھائی دے رہے ہیں پیپلز یوتھ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے حب کے شہری عوام پانی سے محروم رہے تو دمادم مست قلندر ہوگا
89