ایک چھوٹی سی تحریر
عبدالکریم زہری
زہری میں موجودہ بد امنی اور صورتحال کا ذمہ وار کون؟
1996 اور 1997 میں جب ہم بہت چھوٹے تھے
اسکول میں پڑھتے تھے اس وقت ہمیں یاد ہے کہ صوبہ بلوچستان کے دیگر
علاقوں سے لوگ زہری میں امن اور بنا لینے اتے تھے۔
یہ یہاں کسی کے ہاں سام لیتے تھے اسے کوئی خوف اور خطرہ نہیں ہوتا تھا۔
اہستہ اہستہ وقت گزرتا گیا اور حالات بدلتے گئے
ابادی بڑھتی گئی اور باہر کے لوگ ا کر زہری میں اباد ہونے لگے اور ہم لوگوں نے اپنے دوستیاں بھی بڑھانا شروع کر دیا۔
اور ہمارے والدین اور علاقہ اور گاؤں کے بڑوں نے ہم سے یہ پوچھنا بھی چھوڑ دیا کہ بیٹا اپ لوگ کس کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے ہو؟
اور یہ جو لوگ اپ کے پاس اتے جاتے ہیں یہ کون ہیں؟
پھر اہستہ اہستہ حالات بھی خراب ہونا شروع ہو گئے. ہم نے اپنے مشین اور باغوں پر باہر کے لوگوں کو بنا پوچھے
بنا سمجھے
بنا سوچے بس کر رکھ دیا. نہ اس کا بیک گراؤنڈ چیک کیا کہ کہاں سے ایا ہے اور کیا کر کے ایا ہے ؟
اور اس کی اصلیت کیا ہے؟
دن بہ دن حالات خراب ہوتے گئے اور ہم اپس میں دست و گریبان ہوتے گئے ۔
2014 کے بعد حالات اتنے خراب ہو گئے کہ گھر سے نکلنا بھی مشکل تھا ۔ لیکن چند سال بعد اللہ تعالی نے اپنے کسی بندے کی دعا قبول کر لی ۔
حالات تو پہلے جیسے نہیں بن پائے لیکن تھوڑی بہتر ہو گئے ۔
اور ہم علاقے کے لوگ باہر سے انے والے لوگوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔
اج اگر میرے ساتھ کوئی واقعہ پیش ایا تو سب سے پہلے میرے اپنے اور میرے علاقے والے خوش ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کہتے پھر رہے تھے کہ یار فلانا ایسا بندہ تھا اچھا ہوا۔
اس کے ساتھ تو کل اس کے ساتھ ہو گئے۔
میں خوش ہو گیا کہ اچھا ہوا۔
لیکن بدقسمتی سے ہم میں سے کسی نے بھی یہ نہ کہا کہ یہ بہت برا ہوا۔
اس کے بُرے اثرات ہمارے علاقے پر پڑے گا۔ ہمارے ماحول پر پڑے گا اور ہمارے بچوں پر پڑے گا
لیکن اج بھی ہم اسی الجھن میں الجھے ہوئے ہیں۔ کہ فلانا کیوں اگے نکل گیا اور میں کیوں پیچھے رہ گیا ؟
اور ہم یہ نہیں سوچتے ہیں کہ اگے والا بھی ہمارا ایک بھائی ہے.
اگر وہ خوش حال ہے تو ہم بھی خوشحال ہو جائیں گے.
اگر وہ غمگین ہے تو ہم بھی غمگین ہو جائیں گے ۔
لیکن ابھی بھی ہم علاقے کے امن و امان اور دیگر صورتحال کی ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں ۔
خود اپنے گریبانوں میں جھانک کر نہیں دیکھتے ہیں کہ میرے ہاتھ کسی بے گناہ کے خون میں کتنے رنگے ہوئے ہیں۔
چار پیسے کی لالچ میں میں نے کتنے گناہ کئے ہیں ۔
ظلم کی انتہا نہیں ہے ۔
پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ ہم تو نیک نمازی اور حاجی اور صوفی ہیں لیکن پہلے ہم خود کو بدلیں
تو پھر معاشرہ خود بخود بدل جائے گا ۔
شاید میرا یہ تحریر کسی دوست کو بری لگے اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں…