111

لسبیلہ ۔حب ۔ایران تفتان بارڈر سے اسمگل شدہ اسٹیل لوہے کے سلیپ اوربلیڈ ضلع حب کی مختلف اسٹیل ملز اورگودام میں ڈپینگ ہونا شروع ہوگئے ہیں زرائع کے مطابق خام مال لوہا سلیپ و بلیڈ کی ایک بڑھی کھیپ غیر قانونی طور پر حب و بھوانی

لسبیلہ ۔حب ۔ایران تفتان بارڈر سے اسمگل شدہ اسٹیل لوہے کے سلیپ اوربلیڈ ضلع حب کی مختلف اسٹیل ملز اورگودام میں ڈپینگ ہونا شروع ہوگئے ہیں زرائع کے مطابق خام مال لوہا سلیپ و بلیڈ کی ایک بڑھی کھیپ غیر قانونی طور پر حب و بھوانی کےخفیہ گوداموں میں رات کی تاریخی میں چند مٹھی بھر سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے لایا جارہا ہے اسمیگلنگ لسبیلہ کی قومی شاہراہ استعمال کرکے قانون نافز کرنے والے اداروں کی آنکھوں میں دھول جونک کر غیر قانونی کاروبار اور بلیک منی کو وائیٹ منی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہےزایع کے مطابق حب چوکی کےتمام اسٹیل ملز مین مزکورہ مال سپلائی ہوتا اوراس مال سے سریا بنایا جارہا جوکہ پاکستان میں بننے والے تمام اسٹیل ملز تباہی کی دہانے پر کھڑے ہیں اسٹیل ملز کے ساتھ ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا شپ بریکنگ یارڈ گڈانی بُری طرح متاثر ہوا ہے۔اگر اسٹیل اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے فوری طور پر اقدامات نہیں کئے گئے تو دنیا کی تیسری بڑی شپ بریکنگ یارڈ گڈانیء مکمل بند ہو جائے گی جس سے ہزاروں مزدور ٹرانسپورٹرز اس صنعت سےوابستہ ہزاروں لوگ بیروزگار ہوجائینگے حکومت اگر ہنرمند محنت کشوں کوسرکاری نوکری نہیں دے سکتی تو حکومت کو ٹیکس ریونیو دینے والی گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کو تباہی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اورمزدور طبقے کو بیروزگاری سے بچائے

گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے محنت کشوں کی نگران وزیراعظم پاکستان انوارالحق کاکڑ نگران وزیر اعلی بلوچستان علی مردان ڈومکی کسٹم کلیکٹر گوادر ایف سی کمانڈر حب گوادر سے خام مال کی غیر قانونی اسمگلنگ کی روکتھام کے حوالے سےکاروائی اور سخت اقدام اٹھانے کی اپیل کی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں