ڈسٹرکٹ ایسٹ
پی ایس *بریگیڈ*
کراچی پولیس چیف کی جانب سے سسٹم کے خاتمے کے بعد سسٹم کو آپریٹ کرنے والے دو کردار منظر عام پر آگیا ذرائع،
بریگیڈ کی حدود خفیہ موکل کے پروانے دینے والے دو کردار محکمہ پولیس کو بدنام کرنے اور سسٹم کو مجبور کرنے میں سرگرم ہوگئے،
اے ایس آئی *ظفر اقبال عرف ظفر سپاری* ہیڈ کانسٹیبل *محسن* نے سسٹم کو مجبور کردیا اور تعینات ایس ایچ او سعید احمد کو یرغمال بناکر بریگیڈ کی حدود میں خفیہ موکل دیکر ڈسٹرکٹ ایسٹ کو حیران کردیا،
کراچی/(کرائم رپورٹر) *سسٹم* کے ہاتھوں *سسٹم* مجبور ایک طرف *سسٹم* کے خاتمے کی بات تو دوسری جانب *سسٹم* کو آپریٹ اور آرگنائز کرنے والے دو منفرد کردار نے تھانہ بریگیڈ میں تعینات ایس ایچ او *سعید احمد* کو یرغمال بنا لیا *HM خمیسو خان* بھی بے بسی کی تصویر بن گئے ذرائع نے انکشاف میں بتایا کہ بریگیڈ کی حدود میں جرائم پیشہ کو خفیہ طور پر جرائم آپریٹ کرنے کی اجازت دینے والے *ASI* *ظفر اقبال عرف ظفر سپاری* ہیڈ کانسٹیبل *محسن* جیسے کرداروں نے ڈسٹرکٹ ایسٹ کو بدنام کرنے کی ٹھان لی ہے ذرائع نے سنسنی خیز انکشاف میں بتایا کہ تھانہ بریگیڈ کی حدود ہفتہ بازار کے سامنے گلی بھیسوں کے باڑے میں چلنے والا آن سٹہ پرچی کی خفیہ موکل *ASI* *ظفر اقبال عرف ظفر سپاری* اور ہیڈ کانسٹیبل *محسن* نے دے رکھی تھی جس کی فلفور نشاندہی اور فوری کاروائی کروائی گئی موکل کا پروانہ حاصل کرنے والا *شہباز عرف مینڈا* نے کال پر بتایا کہ مجھے *ظفر اقبال عرف سپاری* اور *محسن* کی جانب سے اجازت دی گئی تھی جس کے بعد ان ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کردیا گیا دوسری جانب علاقے میں عام شہریوں کو تاوان کی وصولی کے لیئے تھانے کے خفیہ کمرے منتقل کیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کا سہرا بھی انہی محکمے کے ناسور کرداروں کے سر جاتا ہے *HM* کمرے کے سامنے وائرلیس روم میں شہریوں کو اغوا کرکے تاوان کی وصولی کے لیئے رکھا جاتا ہے جس کا شکار بروز پیر کو ایک عام شہری جس کا نام *محمد اکرم* بتایا جارہا ہے سبزی گلی کے اطراف ایک دوکان پر بیٹھے ہوئے اٹھایا گیا جس سے *پندرہ ہزار* روپیے تاوان دینے کا کہا ورنہ دو کلو چرس میں بند کرنے کی دھمکی دی گئی ہمارے ذرائع نے *محمد اکرم* نامی شہری سے وائس رکارڈنگ اور ویڈیو بیان بناکر اعلی افسران کو بھجوادیا *سسٹم* کے خاتمے کی جنگ لڑنے والے آئی جی سندھ *راجہ رفعت مختار* کراچی پولیس چیف *خادم حسین رند* محکمے میں ناسوروں کے خلاف جنگ کا آغاز کرے اور *سسٹم کو سسٹم* چلانے پر مجبور کرنے والوں کا اب احتساب کرے یہ نظام اب محکمہ پولیس میں کسی صورت نہیں چل سکتا ایسے کرداروں کو محکمے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے فارغ کردینا محکمہ کے لیئے مفید ثابت یوگا اور اعتماد کی بحالی کا بہترین راستہ ہے