172

تھا نہ سعید آباد کی حدود میں چھالیہ کی اسمگلنگ نہ رک سکی گوادر گیٹ کوئٹہ گیٹ بس ٹرمنل یوسف گھوٹ سوفٹ روڈ سے اسمگلنگ زور وشور سے جاری ہیں اور پگڑے جانے پر رشوت کے

تھا نہ سعید آباد کی حدود میں چھالیہ کی اسمگلنگ نہ رک سکی

گوادر گیٹ کوئٹہ گیٹ بس ٹرمنل یوسف گھوٹ سوفٹ روڈ سے اسمگلنگ زور وشور سے جاری ہیں اور پگڑے جانے پر رشوت کے عوض یا اپنا اثر وسوخ استعمال کر کے چھوٹ جاتے ہیں جہاپر پھپوند لگی ہوئی چھالیہ بڑے بڑے ڈرم اور گر ہائی میں چونا اور کھتا ملا کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور پر پلاسٹک کی چھوٹی تھیلیاں اور پوڑیوں کی شکل میں پیک کر کے تھیلوں اور کارٹن میں بھر کر رکشہ یا سوزو کی یا پر موٹر سائیکلوں کے ذریعہ تھانہ سعید آباد کے حدود میں سپلائی کر دیا جاتا ہے ذرائع کا کہنا ہے مضر صحت گٹکا مادا مین پوڑی اور انڈین گٹکے شہر بھر میں بس اسٹاپ مین شاہراہوں اور گلی محلے مضافاتی علاقے اور کچی آبادیوں میں قائم چھوٹی کیبنوں اور دکانوں پر فروخت کیا جا رہا ہے جہا سے اس زہر کو با آسانی خریدا جاسکتا ہے طبی ماہرین شہر میں فروخت ہونے والے گھٹکے مادے کو صحت کیلئے انتہائی مہلک قرار دیا ہے اور اس کے استعمال سے نوجوان نسل منہ کے سرطان اور معدے سمیت کئی امراض میں مبتلاں ہورہے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہیں ذرائع کا کہنا ہے شہر بھر مختلف ناموں سے گٹکے مادے کی تیاری کا عمل ایک جیساہی ہوتا ہے ذرائع کا کہنا ہے گھٹکے مادے کی تیاری کیلئے مضافاتی علاقوں میں جگہ کرائے پر لی جاتی ہے اور انتہائی راز داری کے ساتھ پولیس کے تعاون سے بڑے پیمانے پر پھپوند لگی ہوئی چھالیہ کو مکس کرنے کیلئے مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے علاقہ عوام کا کہنا ہے گھٹکے مادے پر عائد پابندی کو ہر صورت ممکن بنایا جائے اور ایس ایچ اور رضوان حسین کی خفیہ انکوائری لگائی جائے اور جو پولیس اہلکار ان کی سر پرستی کر رہے ہیں ان کے خلاف بھی محکمانہ کاروائی کی جائے

کراچی
ایس ایچ او رضوان حسین اور گشت پر معمور پولیس اہلکار کم وقت میں کروڑ پتی بننے میں مصروف کراچی شہر بھر میں پابندی کے باوجود چھالیہ کی ترسیل گوادر گیٹ کوئٹہ گیٹ یوسف گھوٹ بسٹرمنل پر تعینات پولیس اہلکاروں کی مبینہ سر پرستی میں کھلے عام جاری ذرائع نے بتایا ہے تقرین پولیس اہلکاروں کے رشتہ دار یا خود پولیس اہلکار چھالیہ اور گٹکے مادے کی تیاری میں ملوث نہیجبکہ گٹکا مادا اور مین پوری تھانہ سعید آباد کے حدود مختلف علاقوں میں گشت پر معمور پولیس اہلکاروں کی سرپرستی میں کھلے عام فروخت کیا جا رہا چسکے استعمال سے نوجوان نسل منہ اور معدے کے مختلف مہلک امراض کا شکار ہو رہی ہے تھانہ سعید آباد کے حدود میں قام بس اسٹاپ اور محلے کی دکانوں میں گٹکا مارا مین پوری با آسانی فروخت کیا جا رہا ہے تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ کی عائد کی جانی والی پابندی کے باوجود تھانہ سعید آباد کے حدود مختلف علاقوں میں پولیس کی مبینہ سر پرستی میں نہ صرف گٹکے مادے کی تیاری کا عمل جاری بلکہ ان کی سپلائی دکانوں اور کیبنوں پر کھلے عام فروخت کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ایس ایچ او سعید آباد کی جانب سے پر اسرار خاموشی نے گٹکے مادے کی تیاری اور فروخت کے کاروبار کو عروج پر پہنچا دیا ہے ذرائع کا کہنا ہے ایک جانب تو پابندی نے پولیس کی معاوضے کو کئی گناہ زیادہ کر دیا ہے تو دوسری جانب خود پولیس اہلکار یا انکے قریبی رشتہ دار مصرے صحت گٹکے مادے کی تیاری میں ملوث ہیں اور وہ پولیس لگی ہوئی نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں پر ترپال کے بڑے بڑے دونوں جانب بیگ ڈال کر دیدا دلیری کے ساتھ سپلائی کرتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں