تھا نہ سعید آباد کی حدود میں چھالیہ کی اسمگلنگ نہ رک سکی
گوادر گیٹ کوئٹہ گیٹ بس ٹرمنل یوسف گھوٹ سوفٹ روڈ سے اسمگلنگ زور وشور سے جاری ہیں اور پگڑے جانے پر رشوت کے عوض یا اپنا اثر وسوخ استعمال کر کے چھوٹ جاتے ہیں جہاپر پھپوند لگی ہوئی چھالیہ بڑے بڑے ڈرم اور گر ہائی میں چونا اور کھتا ملا کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور پر پلاسٹک کی چھوٹی تھیلیاں اور پوڑیوں کی شکل میں پیک کر کے تھیلوں اور کارٹن میں بھر کر رکشہ یا سوزو کی یا پر موٹر سائیکلوں کے ذریعہ تھانہ سعید آباد کے حدود میں سپلائی کر دیا جاتا ہے ذرائع کا کہنا ہے مضر صحت گٹکا مادا مین پوڑی اور انڈین گٹکے شہر بھر میں بس اسٹاپ مین شاہراہوں اور گلی محلے مضافاتی علاقے اور کچی آبادیوں میں قائم چھوٹی کیبنوں اور دکانوں پر فروخت کیا جا رہا ہے جہا سے اس زہر کو با آسانی خریدا جاسکتا ہے طبی ماہرین شہر میں فروخت ہونے والے گھٹکے مادے کو صحت کیلئے انتہائی مہلک قرار دیا ہے اور اس کے استعمال سے نوجوان نسل منہ کے سرطان اور معدے سمیت کئی امراض میں مبتلاں ہورہے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہیں ذرائع کا کہنا ہے شہر بھر مختلف ناموں سے گٹکے مادے کی تیاری کا عمل ایک جیساہی ہوتا ہے ذرائع کا کہنا ہے گھٹکے مادے کی تیاری کیلئے مضافاتی علاقوں میں جگہ کرائے پر لی جاتی ہے اور انتہائی راز داری کے ساتھ پولیس کے تعاون سے بڑے پیمانے پر پھپوند لگی ہوئی چھالیہ کو مکس کرنے کیلئے مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے علاقہ عوام کا کہنا ہے گھٹکے مادے پر عائد پابندی کو ہر صورت ممکن بنایا جائے اور ایس ایچ اور رضوان حسین کی خفیہ انکوائری لگائی جائے اور جو پولیس اہلکار ان کی سر پرستی کر رہے ہیں ان کے خلاف بھی محکمانہ کاروائی کی جائے
کراچی
ایس ایچ او رضوان حسین اور گشت پر معمور پولیس اہلکار کم وقت میں کروڑ پتی بننے میں مصروف کراچی شہر بھر میں پابندی کے باوجود چھالیہ کی ترسیل گوادر گیٹ کوئٹہ گیٹ یوسف گھوٹ بسٹرمنل پر تعینات پولیس اہلکاروں کی مبینہ سر پرستی میں کھلے عام جاری ذرائع نے بتایا ہے تقرین پولیس اہلکاروں کے رشتہ دار یا خود پولیس اہلکار چھالیہ اور گٹکے مادے کی تیاری میں ملوث نہیجبکہ گٹکا مادا اور مین پوری تھانہ سعید آباد کے حدود مختلف علاقوں میں گشت پر معمور پولیس اہلکاروں کی سرپرستی میں کھلے عام فروخت کیا جا رہا چسکے استعمال سے نوجوان نسل منہ اور معدے کے مختلف مہلک امراض کا شکار ہو رہی ہے تھانہ سعید آباد کے حدود میں قام بس اسٹاپ اور محلے کی دکانوں میں گٹکا مارا مین پوری با آسانی فروخت کیا جا رہا ہے تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ کی عائد کی جانی والی پابندی کے باوجود تھانہ سعید آباد کے حدود مختلف علاقوں میں پولیس کی مبینہ سر پرستی میں نہ صرف گٹکے مادے کی تیاری کا عمل جاری بلکہ ان کی سپلائی دکانوں اور کیبنوں پر کھلے عام فروخت کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ایس ایچ او سعید آباد کی جانب سے پر اسرار خاموشی نے گٹکے مادے کی تیاری اور فروخت کے کاروبار کو عروج پر پہنچا دیا ہے ذرائع کا کہنا ہے ایک جانب تو پابندی نے پولیس کی معاوضے کو کئی گناہ زیادہ کر دیا ہے تو دوسری جانب خود پولیس اہلکار یا انکے قریبی رشتہ دار مصرے صحت گٹکے مادے کی تیاری میں ملوث ہیں اور وہ پولیس لگی ہوئی نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں پر ترپال کے بڑے بڑے دونوں جانب بیگ ڈال کر دیدا دلیری کے ساتھ سپلائی کرتے