160

اوتھــــــــــل::* *محکمہ زرعی انجینئرنگ لسبیلہ میں کروڑوں روپے خردبرد کرنے کا انکشاف، محکمہ کے 14 ڈوزر میں سے صرف 4 ڈوزر چل رہے تھے وہ بھی ڈپٹی ڈائریکٹر کی نااہلی کی وجہ سے ڈیزل اور آئل نہ ملنے کی وجہ سے کھڑے ہیں 6 ڈوزر ضلع لسبیلہ حب درجی

*اوتھــــــــــل::* *محکمہ زرعی انجینئرنگ لسبیلہ میں کروڑوں روپے خردبرد کرنے کا انکشاف، محکمہ کے 14 ڈوزر میں سے صرف 4 ڈوزر چل رہے تھے وہ بھی ڈپٹی ڈائریکٹر کی نااہلی کی وجہ سے ڈیزل اور آئل نہ ملنے کی وجہ سے کھڑے ہیں 6 ڈوزر ضلع لسبیلہ حب درجی میں باثر شخصیات کے پاس عرصہ دراز سے خراب حالت میں کھڑے ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر انجینئرنگ نے سال 2023-24 کا سالانہ بجٹ ہضم کرکے اپنے گھر کوئٹہ میں بیٹھا ہوا ہے محکمہ کے دفتر میں نہ ہی کوئی انجینیئر ہے اور نہ ہی کوئی افیسر، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ دو ماہ قبل ڈپٹی ڈائریکٹر اوتھل سے کوئٹہ جاتے ہوئے محکمہ کی پک اپ گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہونے کے بعد دفتر میں معمولی خرچے کی وجہ سے کھڑی کر دی ہے جس میں کھڑے کھڑے مزید زیادہ خرابی پیدا ہو گئی ہے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محکمہ ایگریکلچر انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے 14 خراب ڈوزر جو کہ ورکشاپ میں کھڑے کھڑے اسکریپ میں تبدیل ہوگئے ہیں جب صحافیوں نے ورکشاپ کا دورہ کیا تو دیکھا گیا کہ ڈوزر ورکشاپ میں ایک جنگل میں کھڑے پائے گئے جس کو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ محکمہ ایگریکلچر انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں ڈوزر کی مرمت کے لیے آنے والے بجٹ کو ہڑپ کیا گیا ہے اور 14 بلڈوزر میں سے 6 بلڈوزر فیلڈ میں با اثر شخصیات کے پاس ہے اور باقی بلڈوزر ورکشاپ میں خراب حالت میں کھڑے ہیں ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر زرعی انجینئرنگ نے چارج سنبھالنے کے بعد دفتر میں شاز و ناز نظر ائے ہوں گے اور زیادہ تر اپنے گھر کوئٹہ میں ہی ہوتے ہیں اس کے علاوہ دفتری امور چلانے کے لیے دفتر میں کوئی نہیں ہوتا ذرائع سے یہ بھی یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لیاقت نامی اسسٹنٹ انجینئر کی تعیناتی کو 8 ماہ گزرنے کے باوجود دفتر سے غیر حاضر رہتا ہے ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ عرصہ میں محکمہ زرعی انجینئرنگ لسبیلہ کو ایک ایسا جدید ڈوزر بھی دیا گیا تھا جس کو کسی صورت میں کھڑا نہیں کرنا ہے لیکن ڈپٹی ڈائریکٹر کی نااہلی کی وجہ سے ڈرائیوروں کو آئل اور ڈیزل نہ دینے کی وجہ سے جدید ٹیکنالوجی والا بلڈوزر بھی کھڑا کر دیا گیا ہے ایگریکلچر انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں حکومت بلوچستان کی جانب سے زمینداروں کو ملنے والے گھنٹوں کے لیے زمیندار روزانہ دفتر کا چکر لگا لگا کر تنگ آچکے ہیں لیکن زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیں ضلع لسبیلہ میں لوگوں کا ذریعہ معاش زمینداری ہے گزشتہ سیلابوں کے دوران زمینداروں کی زمین اور بندات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے تھے ان زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے بلڈوزر گھنٹوں کی ضرورت ہے لیکن محکمہ ایگریکلچر انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی کی وجہ سے زمیندار ڈوزر کے گھنٹوں کے حصول کے لیے دفتر کے چکر لگا لگا کر بیزار ہو چکے ہیں۔ محکمہ زرعی انجینئرنگ میں ماہانہ لاکھوں روپے کرپشن کا انکشاف، محکمہ زرعی انجینئرنگ ایم ایم ڈی کے ضلعی آفیسر اپنی زمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل ناکام ہوچکا ہے، ہزاروں ڈوزر گھنٹے خرد برد کے شکار ہوچکے ہیں، گزشتہ سال سیلابوں کی وجہ سے اکثر زرعی زمین زراعت کے لئے ناکارہ ہوچکی تھی صوبائی حکومت کی جانب سے ملنے والے ہزاروں لیٹر ڈیزل راستے میں ہی مقتدر قوتوں کی ایما پر بیچ دیا جاتا ہے، بلڈوزرز کے تیل کی مد میں ماہانہ ہزاروں لیٹر کے لاکھوں روپے جاری کیے جاتے ہیں جو زمینداروں کو ریلیف کے بجائے لاکھوں روپے محکمے کے آفیسر کے جیبوں اور لوازمات میں خرچ ہورہے ہیں جو کہ محکمہ کے آفیسر کی ملی بھگت سے تیل کی مد میں حکومت کے دیئے گئے لاکھوں روپے کرپشن کی نظر ہورہے ہیں، اس ساری کرپشن میں ایم ایم ڈی کے ڈپٹی ڈائریکٹر لسبیلہ مکمل طور پر ملوث ہیں ضلع لسبیلہ میں محکمہ ایم ایم ڈی کے تمام ڈوزر یا تو کئی سالوں سے بند پڑے ہیں یا زمینداروں کے بجائے بااثر شخصیات اور مائنز پر استعمال ہونے لگے ہیں، کروڑوں روپے کی کرپشن سے محکمہ کے معمولی آفیسر بھی کروڑ پتی بن گئے ہیں، عوامی حلقوں نے نگران وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری محکمہ زراعت سے مطالبہ کیا ہے کہ لسبیلہ میں محکمہ ایم ایم ڈی کی ماہانہ ہزراوں لیٹر تیل کی مد میں ملنے والے لاکھوں روپے کی تحقیقات کی جائے کہ آیا کہاں خرچ ہورہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ زرعی انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے نااہل اور کرپٹ ڈپٹی ڈائریکٹر کا فوری تبادلہ کرکے کسی ایماندار آفیسر کو لسبیلہ میں تعینات کیا جائے۔*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں