وزیراعظم عمران خان کیلئے۔۔۔
جناب عمران خان صاحب اقتدار، کرسی، عہدہ، طاقت، شہنشاہی اور اس سے بڑھ کراس زندگی سمیت کوئی بھی چیز اس دنیا میں ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے۔
کل جب آپ کے پاس طاقت نہ تھی، کرسی نہ تھی، بادشاہت نہ تھی تو آپ کیلئے ہر پاکستانی اہم تھا مگر آج جب آپ کا مقصد پورا ہوچکا ہے، ملک کی قیادت کی مسند پر آپ براجمان ہوچکے ہیں تو آپ کو عوام چھوٹا طبقہ لگنے لگا ہے۔۔۔
خان صاحب! وہ شخص ابھی موجود ہے بلکہ یوں کہہ لیں کہ وہ جیتے جی ہی عبرت کا نشان بن چکا ہے جی ہاں پرویز مشرف آپ سے بھی طاقت اور زور میں کہیں زیادہ تھا لیکن دین کا نام لینے والوں کو مکے دکھا نے والا وہ شخص آج بے بسی کی تصویر بنے بستر مرگ پر موجود موت کے انتظار میں ہے۔۔
خان صاحب! آپ تو ماڈل ٹاؤن میں لقمہ اجل بننے والوں کے خون کا حساب مانگا کرتے تھے آج آپ خود ہی عوام کو آنکھیں دکھا رہے ہیں؟
جن کو آپ ‘کچھ لوگ’ کہہ رہے ہیں تو ہمت کیجیے اور میڈیا کو حقائق دکھانے دیجیے، کیوں میڈیا پر پابندی لگا رکھی ہے؟ کیوں نہیں لوگوں کے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر جان لٹانے کے جذبات میڈیا کو دکھانے دیتے؟
یاد رکھیے خان صاحب! وقت بہت ظالم ہے یہ فرعون جیسے ظالموں کو بھی معاف نہیں کرتا، آپ کی حیثیت تو یقینا کسی کھاتے میں نہیں آتی، خدارا وہ دعوے مت کیجئے جن پہ کل آپ کو دنیا آخرت میں نادم ہونا پڑے۔۔۔
184