عثمان بزدار نے اپنے ماموں کو ڈی پی او لگا دیا
وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے ماموں امیر تیمور بزدار کو میرٹ سے ہٹ کر پنجاب کے سب سے بڑے ضلع بہاولپور کا ڈی پی او لگایا گیا
منگل 30 اکتوبر 2018
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔30اکتوبر 2018ء) معروف صحافی عامر متین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ہمیشہ مدینہ طرز کے ماڈل کی باتیں کیا کرتے تھے اور کے پی کے ماڈل کی مثالیں دیا کرتے تھے۔کے پی کے میں ناصر درانی کسی سے یہ نہیں پوچھتے تھے کہ کس افسر کو کہاں لگانا ہے۔ویاں سیاسی مداخلت نہیں ہوتی تھی،لیکن پنجاب میں حالات کچھ اور ہی ہیں۔پنجاب میں تقرریاں اور تبادلوں کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی۔
وزیر اعلیٰ عثمان بزدار، چیف سیکرٹری،سیکرٹری سی ایم،ہوم سیکرٹری اور آئی جی پر مشتمل پینل تھا جو کہ انٹرویو کرتا تھا۔لیکن اطلاعات کے مطابق آئی جی صاحب اور وزیر اعلیٰ نے اپنے بندے لگوائے ہیں۔اس کے علاوہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کے بندوں کو بھی ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔
جب کہ عثمان بزدار کے ماموں امیر تیمور بزدار کو ڈی پی او بنا دیا گیا۔
امیر تیمور بزدار کو پنجاب کے سب سے بڑے صوبے بہاولپور کا ڈی پی او لگا دیا گیا ہے۔ جب کہ وہ رینکر ہیں اور 18ویں گریڈ کے ہیں اور حال ہی میں سپریم کورٹ نے تمام رینرز کی تنزلی کی ہے۔اس لیے میرٹ پر ان کی تقرری نہیں بنتی تھی کہ ان کو پنجاب کا سب سے بڑا ضلع دے دیا جائے۔اور پھر چونکہ وہ وزیر اعلیٰ کے ماموں ہیں تو سوالات اٹھنے لگ جاتے ہیں کہ یہاں میرٹ پر کام ہوا یا نہیں ہوا۔
اس کے علاوہ بھی کئی شکایاتیں موصول ہو رہی ہیں کچھ جگہوں پر سینئیر پوسٹوں پر جونئیر افسروں کو لگایا گیا ہے۔اور آج بھی سیاسی بنیادوں پر تقریاں کی جا رہی ہیں۔عامر متین نے مزید کہا کہ ٹھیک ہے آپہ نے تین ماہ میں تین آئی جی تبدیلی کیے لیکن کم از کم ان کو ناصر درانی کی طرح اختیارات تو دیں۔وزیراعلیٰ کے ترجمان کا بیان آیا کہ ڈی پی او کے معاملے میں ہم نے انٹرویو نہیں کیے تاہم میں نے معلومات لی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ان کے ماموں کا انٹرویو عثمان بزدار کی نگرانی میں ہوا ہے۔
186