176

سازش یا کچھ اور بھانڈا پھوٹ گیا۔

اسرائیلی وزیراعظم کا خفیہ دورہ پاکستان اسلام آباد کی فضاؤں میں اسرائیلی طیارہ کی آمد کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی
گزشتہ رات اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ یمن کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے خفیہ دورہ پاکستان کیا جسیں انتہائی خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن اسرائیلی صحافی اور اسرائیل کے مشہور اخبار نے بھانڈہ پھوڑ کر رکھ دیا
اسرائیلی اخبار کے سینئر صحافی نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نےاومان کے دورہ سے واپسی پر پاکستان کا خفیہ دورہ کیا جس کا مقصد ایران کے خلاف ریجن کے ممالک کو اعتماد میں لینا تھا مستقبل قریب میں امریکہ سعودیہ اور ایران ملکر ایران کے خلاف بڑی کاروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہے پاکستانی وزیراعظم کا حالیہ دورہ سعودیہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا پاکستان اور اسرائیل کے ڈپلومیٹک تعلقات چونکہ بلکل نہیں ہے کیوں کے پاکستان نے اب تک اسرائیل کو تسلیلم نہیں کیا لیکن پاکستان کی خفیہ طاقتیں کئی بار کوشش کرچکی کے کسی طرح اسرائیل سے خفیہ طریقہ سے بہتر تعلقات رکھے جائے اور اس مقصد کے لئے جرنل مشرف دور میں بھی کوششیں ہوچکی جرنل مشرف نے اسرائیلی وزیراعظم سے ترکی میں خفیہ ملاقات کی تھی جو بعد میں خورشید قصوری جو مشرف دور میں اُن کی کابینہ کے اہم وزیر تھے اور وزارت خارجہ کی اہم پوسٹ پر بھی تھے موجودہ اسرائیلی وزیراعظم کا خفیہ دورہ عمران خان کے دورہ سعودیہ کے فوراً بعد ہوا زرائع کے مطابق نیتن یاہو کے خفیہ دورہ میں سعودی حکومت نےکردار ادا کیا پاکستان کو سرودیہ سے ملنے والی بڑی امداد کے پیچھے بھی اصل مقاصد ایران کو سبق سکھانا ہے جس میں پاکستان سے خفیہ طریقہ سے مدد حاصل کرنا ہے زرائع نے دعوی کیا ہے کے اسرائیلی وزیراعظم نے پاکستان کو کئی یقین دھانیاں بھی کروائی جن میں کئی فوجی ٹیکنالوجی میں مدد فراہم کرنا بھی شامل ہے یاد رہے اسرائیل کے پاس کئی ایسی ٹیکنالوجی بھی ہے جو خاص کر دہشت گردوں کی نشاندہی میں پیشگی وارننگ جاری کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے
پاکستان کا اصل مسئلہ پاکستان میں موجود مزہبی اور سیاسی جماعتیں ہے جس کے خوف کی وجہ سے پاکستان اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات قائم نہیں رکھ سکتا لیکن پاکستان کی طاقتور قوتوں کی ہمیشہ خواہش رہی کے ہمارے تعلقات اسرائیل کے ساتھ بہتر ہونے چاہئے اور اس میں کوئی مزائقہ نہین کے ہم اسرائیل کو باقی مسلم ممالک کی طرح تسلیم کرلیں
ٹوٹر پر پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حُسین نے ٹوٹر پر اس بات کی زرائع کے حوالے سے تصدیق کے اسرائیلی طیارہ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد دس گھنٹہ رکا رہا اور سوال بھی ساتھ اُٹھایا کے آخر کون تھا جو اسرائیلی جہاز میں پاکستان آیا اور یہاں سے جہاز اُڑنے کے بعد سیدھا تل ابیب اُترا ؟
ایک اور سینئر صحافی رضی دادا نے بھی خبر کی تصدیق کی اور ساتھ ہی کہا کے قادیانیوں اور یہودیوں کی لابی آج کامیاب ہوگئی یاد رہے کے عمران خان کے سابق سالے جمائما گولڈ اسمتھ فرینڈ آف اسرائیل لابی کا بہت اہم اور ایکٹیوں ممبر بھی ہے
بات جو بھی سچ ہو لیکن پاکستانیوں کو اس بات کی خبر ضرور ہونی چاہئے کے اسرائیلی وزیراعظم پاکستان آخر کس مقصد کے لئے آئے کس کس سے ملاقات کی اور دس گھنٹے کس کس کے مہمان بنے رہے ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں