ڈائریکٹر انٹی کرپشن کی سربراہی میں آٹھ رکنی کمیٹی نے کھوکھر برادران کے اراضی پر قبضوں اور غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کارروائی کیلئے گیارہ نکاتی سفارشات سامنے آگئیں،
سفارشات کو منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کارروائی کے احکامات جاری کر رکھے ہیں
سپریم کورٹ میں کیس پر کل ہونیوالی سماعت میں کمیٹی کی جانب سے سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ پیشِ کئے جانے کا امکان ہے،تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ
کھوکھر برادران کے زیر قبضہ لاہور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں ایک ہزار چار سو 67 کنال اراضی سامنے آئی ہے، رپورٹ
کھوکھر برادران کے نام 8 لگژری گاڑیاں بتائی گئی ہیں، رپورٹ
کھوکھر برادران کے زیر قبضہ چونیاں میں 384 کنال سرکاری اراضی اور کھوکھر پیلس لاہور میں کھال اور راستے کی شامل کی گئی پانچ کنال اور 8 مرلہ سرکاری اراضی واگزار کرالی گئی ہے، رپورٹ
موضع ہلوکی میں واقع 110 کنال اراضی کھوکھر برادران فروخت کرچکے ہیں، رپورٹ
کھوکھر برادران شفیع کھوکھر، سیف الملوک کھوکھر اور افضل کھوکھر کے والد ایوب کھوکھر کی جانب سے وراثت میں کوئی جائیداد نہیں ملی تھی،رپورٹ
کھوکھر برادران نے 2005 میں پہلی جائیداد ایک کنال چودہ مرلہ اراضی خریدی، رپورٹ
قزلباش وقف اراضی میں سے تین اںتقالات کے ذریعے کھوکھر برادران نے 40 کنال چار مرلے اراضی کی الاٹمنٹ کرائی، رپورٹ
متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر نے 19 مارچ 2016 کو بارہ کنال سات مرلے کی قزلباش وقف سے الاٹمنٹ کے انتقال کو جعلی قرار دے کر منسوخ کر دیا،رپورٹ
اسسٹنٹ کمشنر کے فیصلے کے خلاف کھوکھر برادران کی اپیل پر ایڈیشنل کمشنر نے حکم امتناعی جاری کررکھا ہے، رپورٹ
قزلباش وقف اراضی سے دس کنال پندرہ مرلے کی الاٹمنٹ بھی دوسری بار ہونے کی وجہ سے مشکوک ہے، رپورٹ
کھوکھر پیلس کی 177 کنال دس مرلہ اراضی مختلف مشترکہ خسرے ہونے کی وجہ سے بشری جبیں سمیت 14 افراد کی مشترکہ ملکیت ہے، رپورٹ
کھوکھر پیلس کیلئے 83 سیل ڈیڈز فرد ملکیت حاصلِ کیے بغیر ریونیو رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منظور کرائی گئیں، رپورٹ
کھوکھر برادران نے جائیداد کی خریدوفروخت کیلئے کل 167 رجسٹریاں منظور کرائی، رپورٹ
جن کیلئے 26 فرد ملکیت سیف الملوک کھوکھر ،18 فرد ملکیت مبشر حسن جبکہ84 فرد ملکیت اراضی مالکان نے حاصل کیں، رپورٹ
سیل ڈیڈز کیلئے سات جعلی فرد ملکیت حاصل اور 12 رجسٹریاں بغیر فرد ملکیت کے منظور کرائی گئی، رپورٹ
چار فردیں دیگر افراد کی طرف سے اور 16 سیل ڈیڈز کا روزنامچہ واقعاتی میں اندراج ہی نہیں، رپورٹ
شیخوپورہ میں کھوکھر برادران کی 497 کنال زرعی زمین کے تبادلے کی اصلیت جاننے کیلئے تحقیقات کی جانی چاہیے، رپورٹ
ہلوکی میں واقع 52 کنال اراضی شفیع کھوکھر اور سیف الملوک کھوکھر نے 81 کنال میں سے 58 کنال اراضی فروخت کی، رپورٹ
تحصیل قصور اور تحصیل پتوکی میں 235 کنال زرعی اراضی کھوکھر برادران کے زیر قبضہ ہے، رپورٹ
کھوکھر برادران کے زیر قبضہ چونیاں میں 384 کنال سرکاری زرعی اراضی واگزار کرالی گئی، رپورٹ
ضلع وہاڑی میں کھوکھر برادران کی دس کنال اراضی یے، رپورٹ
لینڈ کمیشن اتھارٹیز نے مارشل لاء ریگولیشنز 1972 اور لینڈ ریفارمز ایکٹ 1977 کے تحت قزلباش وقف کی موضع جات ستوکتلہ،رکھ پورہ،بھوبتیاں ،شاہ پور،خان پور،خالق آباد اور نیاز بیگ میں 7976 کنال اراضی حاصل کی گئی، رپورٹ
اس سرکاری قیمتی اراضی کی الاٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں ، رپورٹ
جوہر ٹاؤن سمیت لینڈ مافیا کھربوں روپے کی اراضی پر سوسائٹیوں کی غیر قانونی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے،رپورٹ
وزیر اعلیٰ پنجاب بطور چیئرمین لینڈ کمیشن مکمل انکوائری کرکے سرکاری اراضی کی بندر بانٹ اور فراڈ کو پکڑ کر سکتے ہیں، رپورٹ
سرکاری اراضی کا کسٹوڈین ہونے کے ناطے بورڈ آف ریونیو نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، رپورٹ
الاٹ کی گئی اراضی زرعی مقاصد کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے، سوسائٹیاں بنانے کے لیے نہیں، رپورٹ
انٹی کرپشن کمیٹی کی کھوکھر برادران کے ناجائز قبضوں،اشتمال ،غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف گیارہ سفارشات
کھوکھر پیلس کے مشترکہ کھاتوں کو پنجاب ریونیو رولز کے تحت تقسیم کیا جائے، رپورٹ
سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی نگرانی میں ہائی پاور کمیٹی اراضی فراڈ کی تحقیقات اور ملوث سرکاری افسران اور ملازمین کیخلاف کارروائی کرائی جائے، رپورٹ
مشترکہ کھاتوں کی فرد بیع جاری کرنے والے افسران اور پٹواریوں کے خلاف کارروائی کی جائے، رپورٹ
متنازعہ اراضی پر سائٹ پلان کی منظوری کے بغیر تعمیرات کیخلاف انٹی کرپشن میں مقدمہ نمبر 76/18 درج ، کارروائی جاری ہے، رپورٹ
فرد بیع کے بغیر سیل ڈیڈز منظوری میں ملوث پٹواریوں اور سب رجسٹرار کیخلاف کارروائی کی جانی چاہیے، رپورٹ
کھوکھر برادران کے رقبے کا غیر قانونی اشتمال کرنے پر انٹی کرپشن میں مقدمہ نمبر 77/18 درج کرکے کارروائی جاری ، رپورٹ
ایل ڈی اے افسران اور ملازمین کی ملی بھگت سے سائٹ پلان منظوری کے بغیر عمارات کی تعمیر سے سرکاری خزانے کو فیسوں کی مد میں بھاری نقصان پہنچایا گیا، رپورٹ
دہائیوں سے جاری اشتمال کے عمل کی منصفانہ تکمیل کے لیے بورڈ آف ریونیو کو ہدایات جاری کی جاسکتی ہیں، رپورٹ
ایل ڈی اے ودیگر ایجنسیوں کو سائٹ پلان کی منظوری کے بغیر جاری ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر وسیع پیمانے پر چیک کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں، رپورٹ
کھوکھر برادران کی شیخوپورہ میں اراضی تبادلے کی اصلیت جاننے کے لیے مکمل انکوائری کی سفارش ، رپورٹ
کھوکھر برادران کے اراضی تبادلے میں سرکاری خزانے کو سٹمپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس کی مد میں 22 لاکھ روپے نقصان کی ریکوری کی سفارش،