148

ساہیوال واقعہ کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج اور ہڑتال۔

ساہیوال واقعے کے خلاف مختلف شہروں میں تاجروں اور وکلا برادری کی جانب سے احتجاج اور ہڑتال کی جارہی ہے جب کہ لاہور ہائیکورٹ میں واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے لیے درخواست بھی دائر کردی گئی ہے۔
بہاولپور میں ساہیوال واقعے کے خلاف ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا کی مکمل ہڑتال کی جارہی ہے جب کہ کمالیہ میں بھی ہڑتال ہے اور ملزمان کے خلاف وکلا نے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی طرح بہاول نگر میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء کی مکمل ہڑتال جاری ہے جب کہ مظفر گڑھ، وہاڑی، خانیوال، ڈیرہ غازی خان، بورے والا میں بھی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا کی جانب سے ہڑتال کی جارہی ہے۔

پشاور میں بھی ساہیوال واقعے کے خلاف خیبرپختونخوا بار کونسل کی کال پر وکلاء کی جانب سے ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے جب کہ کے پی بار کونسل نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بورے والا میں سانحہ ساہیوال کے سوگ میں انجمن تاجران کی کال پر شہر بھر میں مکمل ہڑتال کی جارہی ہے جس کے باعث تمام تجارتی مراکز بند ہیں۔

دوسری جانب سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی جس میں حقائق سامنے لانے کے لیے واقعےکی عدالتی تحقیقات کرائے جانے کی استدعا کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 19 جنوری کی سہہ پہر سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں میاں بیوی اور ان کی ایک بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ کارروائی میں تین بچے بھی زخمی ہوئے۔

واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا بعدازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

آج اپنے دل کا کیا حال سنائوں؟ یہ دل بہت زخمی ہے۔ ان زخموں کے پیچھے ایک بے بسی کا احساس ہے۔ بے بسی کا یہ احساس نشتر بن کر بار بار دلِ ناتواں پر زخم لگا رہا ہے۔ آج صرف میرا نہیں، اکثر اہلِ وطن کا دل زخمی ہے۔ جس جس نے سانحہ ساہیوال میں زندہ بچ جانے والے تین بچوں کے چہروں پر دکھ اور بے بسی کو محسوس کیا ہے، اسے ان بچوں کی بے بسی میں اپنی بے بسی نظر آئی ہو گی۔ جب بھی کسی بے گناہ کو گولیاں مار کر دہشت گرد یا لٹیرا قرار دیا جاتا ہے تو میری آنکھوں کے سامنے وہ تمام واقعات گھومنے لگتے ہیں جن میں پہلے کسی بے گناہ پر ظلم کیا گیا، پھر اس ظلم کو چار چاند لگا کر ایک کارنامہ بنا دیا گیا۔ ساہیوال میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ 19جنوری کی دوپہر بارہ بجے کے قریب ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب کائونٹر ٹیررازم (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے لاہور سے آنے والی ایک کار کے ٹائروں پر فائرنگ کی۔ جب یہ کار سڑک کنارے رک گئی تو اس پر تین اطراف سے فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے باعث کار میں موجود عورتوں اور بچوں نے چیخ و پکار شروع کی تو رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس سی ٹی ڈی اہلکار کار کے قریب آئے۔ کار میں موجود زخمی خلیل نے کہا کہ ہماری تلاشی لے لو، ہم غیر مسلح ہیں، ہم شادی میں جا رہے ہیں، تم نے جو لینا ہے لے لو، ہمیں چھوڑ دو۔ پھر اس نے کہا کہ ہماری گاڑی میں بچے ہیں، ہمارے بچوں کو مت مارو۔ ایک سی ٹی ڈی اہلکار نے خلیل سے کہا کہ بچوں کو کار سے باہر نکالو۔ اس دوران خلیل اپنے ہوش کھو چکا تھا۔ پچھلی سیٹ پر موجود اس کی بیوی نبیلہ اور 13سال کی بیٹی اریبہ خاموش ہو چکی تھیں۔ دو سی ٹی ڈی والوں نے پچھلے دروازے کھول کر دس سالہ عمیر، سات سالہ منیبہ اور چار سالہ ہادیہ کو نکالا اور پھر بڑی سفاکی کے ساتھ کار میں موجود دو زخمی عورتوں اور دو زخمی مردوں پر مزید گولیاں برسائیں تاکہ ان میں سے کوئی زندہ نہ بچ جائے۔

سی ٹی ڈی والوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا اور وہ وائرلیس کے علاوہ اپنے موبائل فونوں پر اپنے افسروں کو بتا رہے تھے کہ زندہ بچنے والے بچے مارے جانے والوں کو اپنے ماں باپ قرار دے رہے ہیں لیکن افسران نے اصرار کیا کہ اس غلطی کو کارنامہ بنا دو۔ سی ٹی ڈی والوں نے اپنے ظلم کو چار چاند لگانے کیلئے ایک کہانی گھڑی اور دعویٰ کیا کہ مارے جانے والے مرد اور عورتیں دہشت گرد تھے اور ان کا تعلق دہشت گرد تنظیم داعش سے تھا۔

سی ٹی ڈی والے زخمی بچوں کو ایک اسپتال میں لے گئے، یہاں پہنچنے والے صحافیوں نے دس سالہ عمیر سے بات کی تو پتا چلا کہ سی ٹی ڈی والے جھوٹ بول رہے ہیں۔ جب میڈیا پر اس جھوٹ کا پردہ چاک ہوا تو سی ٹی ڈی والوں نے ایک نیا موقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کار کا ڈرائیور ذیشان دہشت گرد تنظیم کا کمانڈر تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں