اب کسی میڈیا ادارے یا صحافی کو پابند کرنا زیادہ آسان نہیں رہا۔
ایک عرصہ سے شکایات سننے کو مل رہی تھیں کہ پاکستان کی کسی یونیورسٹی سے شعبہ صحافت کی اعلیٰ ترین ڈگری لینے والا فرد کسی اخبار، ٹی وی چینل اورنیوزایجنسی میں بیٹھ کر ایک چھوٹی سی خبربنانے یا اسے سیدھا نہیں کرسکتاتھا، تعلیمی ادارے میں پڑھایاجانے والا سبق آج کسی میڈیا ادارے میں مفید ثابت نہیں ہوتا۔ اس سے بڑا المیہ تھا کہ اس ایشو کا کسی کو ادراک ہی نہیں تھا، ان حالات میں بہت سوں کی طرح میں بھی مایوس تھا۔ تاہم گزشتہ دنوں ڈاکٹرثاقب ریاض سے ملاقات ہوئی تو میری مایوسی امید میں بدل گئی، بھلاکیسے؟ آئیے! بتاتاہوں۔