پنجاب کابینہ میں غیر تسلی بخش کارکردگی دیکھانے والے وزراء
ملک محمد انور، حافظ عمار یاسر، محمد اخلاق، مہر محمداسلم، میاں خالد محمود، ہاشم ڈوگر، سردار محمد آصف، محسن لغاری، اعجاز مسیح، شوکت لالیکا اور جہانزیب خان کھچی شامل ہیں زوار حسین وڑائچ، محمد اختر، حسین جہانیاں گردیزی، ملک نعمان لنگڑیال، ملک تیمور خان، آشفہ ریاض فتیانہ، چودھری محمد اجمل اور انصر مجید خان نیازی کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی۔
پنجاب میں وزراء کی کارکردگی کو چیک کرنے کے لیے دو رپورٹیں تیار کی گئی جس میں ایک رپورٹ وزیراعلی پنجاب کی جانب سے جبکہ دوسری وزیراعظم کی ہدایت پر خفیہ طور تیار کی گئی ہے
وزیر اعلی نے پندرہ وزرا کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ بھجوائی گئی دوسری رپورٹ میں 15 سے زائد وزرا کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ 15 سے زائد وزرا نے اپنے محکموں کی بریفنگ لینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔
مایوس کن کارکردگی دکھانے والے وزرا کا تعلق اتحادیوں سے ہے۔ جن میں سے اکثر جہاز میں لوڈ کر کے پہاڑی والے بابا کے پاس پہنچائے جاتے رہیں۔
بہت سارے ایسے معاملات ہیں جن واقعی لگ رہا ہے کہ کابینہ میں نااہل لوگ شامل کیے گئے ہیں جو وزاتوں کے بھوکے تھے جو صرف پروٹوکول کے ساتھ شاہانہ طریقے سے وزارت کرنا چاہتے تھے۔
محکمہ صحت کی وزیر کی بھی کارکردگی بہتر نہیں دیہی اور دور دراز علاقوں میں مریض پہلے کی طرح خوار ہو رہے ہیں۔ لینڈ ریکارڈ سنٹر پر ویسے کا ویسا ماحول ہے جو گزشتہ دور میں تھا
خیر وزیر اعظم عمران خان کو ان وزرا سے کام لینا چاہے جبکہ وزیراعلی پنجاب کی رپوت اور اپنی وزیراعظم کی طرف سے خفیہ طور پر مرتب ہونے والی رپورٹ کا موازنہ کیا جائے۔