بورےوالا 

تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میں ڈاکٹر دوران اپریشن سیلفیاں اور تصاویر بنانے لگے
دوران اپریٹ مریض کی تصاویر بھی وائرل
جن میں مریض کے جسم کے اندرونی حصے بھی نظر آرہے ہیں
تصاویر ایک سال پرانی ہیں ڈاکٹر کا موقف
تحصیل ہسپتال بورےوالہ میں تعنیات سرجن ڈاکٹر محمد اقبال دوران اپریشن مبینہ طور پر سٹاف کے ہمراہ سیلفیاں اور تصاویر بنوانے لگے دوران اپریشن لی گئی سیلفیاں اور تصاویر وائرل ہو گئیں اپریشن تھیٹر میں لی گئی سیلفیوں اور تصاویر کے بیک گراوئنڈ میں اسٹریچر پر مریض بھی موجود ہے جسے تشویش ناک حالت میں ڈرپ بھی لگی ہوئی ہے وائرل ہونے والی تصاویر میں اپریٹ کے دوران کی تصاویر بھی شامل ہیں جس میں مریض کے جسم پر کٹ لگا کر اس کا اپریشن کیا جا رہا ہے اور مریض کے جسم کی مختلف اندرونی حصے بھی نظر آرہے ہیں ان تصاویر کے حوالے سے جب متعلقہ ڈاکٹر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا گیا تو اس پر ڈاکٹر اقبال کا کہنا تھا کہ اس سے کیا ہوتا ہے اور یہ تصاویر ایک سال پرانی ہیں معزز شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب اور صوبائی وزیر صحت پنجاب سے ان تصاویر کے متعلق ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر اقبال کو معطل کر کے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔
تصویریں وائرل ہونے کے بعد شہریوں خصوصا خواتین مریضوں تشویش کی لہر دوڑ گئی
ہسپتال میں مریضوں اور لواحقین کے ساتھ شرمناک سلوک کے بہت سے قصے زبان زد عام ہیں.