161

بحریہ ٹاؤن نظرثانی کیس کا مکالمہ۔

سپریم کورٹ/ بحریہ ٹاؤن راولپنڈی نظرثانی کیس۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزازاحسن کے دلائل
ہمیں بتائیں فیصلے میں کن دستاویزات کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا، چیف جسٹس
جو دستاویزات بتائے جارہے ہیں وہ اپنی مرضی سے بنوائے گئے، جسٹس اعجاز الاحسن
مساوی کی قانون میں کوئی اہمیت نہیں، جسٹس آصف سعید کھوسہ
7 مختلف خود مختار ریکارڈز سے زمین کا رقبہ واضح ہے، جسٹس اعجاز الاحسن
زمین سکڑ گئی ہے یا ہوا میں چلی گئی ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن
گورے نے بڑی سوچ سمجھ سے زمین سے متعلق قوانین بنائے، چیف جسٹس
وقت کے وزیراعلیٰ جن کا حدبندی سے تعلق نہیں انہوں نے حدبندی کا حکم دیا، جسٹس آصف کھوسہ
کچھ زمین سے فائدہ کس نے اٹھایا؟ جسٹس آصف کھوسہ
فائدہ اٹھانے والوں میں وزیراعلیٰ اور انکا خاندان بھی شامل ہے، جسٹس آصف کھوسہ
ہم ان حقائق سے چشم پوشی اختیار نہیں کرسکتے، جسٹس کھوسہ
ہم سابق وزیراعلیٰ پر الزام نہیں لگارہے، جسٹس کھوسہ
عدالتی حکم میں سابق وزیراعلیٰ کے خلاف ذکر ہے، جسٹس کھوسہ
سابق وزیراعلیٰ کو سنے بغیر فیصلہ دیا گیا، اعتزاز احسن
یہ دلیل سابق وزیراعلیٰ کو دینے دیں، چیف جسٹس
ہم سابق وزیراعلیٰ کے فائدہ اٹھانے سے متعلق تحقیقات کرالیں گے، چیف جسٹس
سارے جنگل کو کیسے سکڑایا گیا سب ریکارڈ پر موجود ہے، جسٹس کھوسہ
آپ کے موکل نے خود مانا کہ 10 ہزار درخت کاٹے گئے، چیف جسٹس
انگریز نے ایک ایک درخت پر نمبر لگایا ہوتا ہے، جسٹس کھوسہ
بڑے بڑے عہدوں سے ریٹائرڈ ہو کر لوگ وہاں بیٹھے ہوئے ہیں، چیف جسٹس کے بحریہ ٹاون کا نام لیے بغیر ریمارکس
کسی نے مشورہ دیا کہ زمین کی شکل تبدیل نہ کرو، چیف جسٹس
یہ وہی جگہ ہے جہاں کسی کا 100 کنال کا گھر بنا ہوا ہے، چیف جسٹس
یہ صرف مفروضہ ہے، اعتزاز احسن
علی ریاض کے گھر سے متعلق پوچھ لیتے ہیں، چیف جسٹس
اگر کسی کو اللہ نے دیا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، جسٹس کھوسہ
ہم نے دیکھنا ہے کہ کمائی حلال اور قانون کے مطابق ہے یا نہیں، جسٹس آصف سعید کھوسہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں