سفاک قاتل کو تین بار سزائے موت اور 9 لاکھ جرمانہ کی سزا سنادی گئی۔



ڈیرہ اسماعیل خان ایڈیشنل سیشن جج ڈیرہ عثمان ولی خان نے چھ سالہ بچی ماہ نور کو ریپ کے بعد قتل کے جرم میں محمد بلال کو 3 بار سزائے موت اور 9 لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ سنادیا۔
مجرم محمد بلال کو عدالت نے بچی کے اغواء،ریپ اورقتل کی دفعات کے تحت سنائی۔
عدالت نے تعزیرات پاکستان کے دفعہ 302 میں اسے سزائے موت اور سات لاکھ روپے عوضانہ ،زیر دفعہ 364A ت پ میں سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ جبکہ جرم زیر دفعہ 376 ت پ میں بھی سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ ان میں سات لاکھ عوضانہ بھی عائد کیاگیا جو مجرم متاثرہ خاندان کو ادا کرے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق مجرم کے پاس سزا کے خلاف فیصلے کا اختیار ہے اور وہ 15 روز کے اندر اعلیٰ عدالت میں فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتا ہے جس کے لیے امکان ہے کہ مجرم جیل حکام سے رجوع کرے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معصوم بچی ماہ نور کے والد نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا اسے اپنے لیے انتہائی کامیابی قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ مجرم کو ملنے والی سزا سے مطمئن ہے۔