پاکستان کی سرحدیں اور اِن پر جنم لیتے مسائل۔
دنیا کی تاریخ تحریری طور پر حروف تہجی کے ایجاد ہو نے کے بعد تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے لکھی جانے لگی اور یوں ہماری تاریخ ساڑھے تین ہزار سال ہی تسلیم کی جاتی مگر جہاں تک انسانی تہذیب وتمدن کا تعلق ہے تو اِس کے لیے پہلے قدیم مذاہب اور ادیان کی جانب دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہ اُس وقت بھی وجود رکھتے تھے جب بظاہر حروف تہجی وجود میں نہیں آئے تھے یا ایجاد نہیں ہوئے تھے۔
اِس اعتبار سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ یا تو یہ مذہبی کتابیں تحریری شکل میں موجود تھیں یا اگر اُس وقت حروف تہجی ایجا د نہیں ہو ئے تھے تو لوگ ان مذہبی احکامات کو یاد کر لیا کرتے تھے اور یہ یاد داشتیں نسل در نسل، پشت در پشت، سینہ بہ سینہ چلتی تھیں کیونکہ جہاں تک زبانوں کا تعلق ہے تو ہمارے پاکستان میں بولی جانے والی بلوچی ، پنجابی ، پشتو ، سندھی ، زبانیں بھی پانچ ہزار سال سے زیادہ قدیم ہیں۔ عربی ، سنسکرت اور عبرانی زبانوں کو زیادہ قدیم اور بہت سی زبانوں کی ماں تسلیم کیا جاتا ہے، یوں نسلوں قوموں کی زبانوں ان کی تہذیب وتمدن اور ثقافت کی بنیادوں پر ہی ان کے ملکوں کا تعین ہوتا رہا، اسی اعتبار سے دنیا میں ہزاروں برسوں سے ملکوں اور ان کے رقبے کے لحاظ سے سرحدوں کا سراغ ملتا ہے۔
191