یہ ٹویٹ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کیا ہے اور اس میں امریکی صدر کیلئے انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان پر الزامات عائد کرنے والے بے شرم ہیں۔
ن لیگی دور میں وزارت خارجہ کا قلمدان نوازشریف نے اپنے پاس ہی رکھا تھا، اور کیوں رکھا تھا، اس کی وجہ بھی سمجھ آگئی ہوگی کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مفاد پر کوئی ضرب پڑے۔
اپنے ایمان کی روشنی میں بتائیں کہ کیا ن لیگ اور پی پی میں اتنی اخلاقی جرات تھی کہ وہ ٹویٹر پر ٹرمپ کی اس طرح بینڈ بجاتے؟ پہلے عمران خان نے ٹرمپ کے جواب میں ٹویٹ کیا تو ٹرمپ نے ایک اور ٹویٹ کرڈالا، جس کے جواب میں عمران خان نے بھی ایک اور ٹویٹ کردیا۔ اب شاہ محمود قریشی نے بھی ٹرمپ سرکار کا ٹویٹتکار کردیا ہے۔
عالمی میڈیا میں اس وقت پاکستانی حکومت کے ان ٹویٹس کی گونج ہے اور ٹرمپ کی اچھی خاصی سبکی ہورہی ہے۔ ٹرمپ کی حالت یہ ہے کہ اگر وہ مزید جواب دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان اسے ڈپلومیٹک ٹریپ میں لے آیا، کیونکہ ایک طرف امریکہ اپنے آپ کو سپرپاور کہتا ہے، دوسری طرف پاکستان کے ساتھ سفارتی محاذ پر امریکی صدر بے عزت ہورہا ہے۔
اگر امریکی صدر اب جواب نہیں دیتا تو اس کا مطلب بھی یہ ہوگا کہ یا تو اس کے پاس جواب نہیں، یا پھر وہ مزید بے عزتی کے ڈرسے چپ ہوگیا۔
سفارتی حوالے سے آج پاکستان نے امریکہ کے خلاف اپنی تاریخ کا سب سے بڑا پوائنٹ سکور کرلیا جو آئیندہ کچھ عرصے تک امریکی صدر کو کافی بے چین کئے رکھے گا۔
—————————————————————
ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات، امریکی ناظم الامور دفتر خارجہ طلب ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل۔
اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ پاکستان مخالف بیانات پر دفتر خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے غیر ضروری اور بے بنیاد الزامات پر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے احتجاجی مراسلہ امریکی ناظم الامور سفیر پال جونز کے حوالے کیا۔
ترجمان کے مطابق مراسلے میں پاکستان کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے غیر ضروری اور بے بنیاد الزامات پر سخت احتجاج کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے امریکی صدر کی حالیہ ٹویٹس پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ القاعدہ کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، ان تمام اقدامات کے باوجود اس قسم کے بیانات ناقابل قبول ہیں۔
ترجمان کے مطابق اس موقع پر سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے اور خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے ہماری کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ القاعدہ کی اعلیٰ قیادت پاکستان کے تعاون کے باعث ہی پکڑی یا ماری گئی اور القاعدہ کی لیڈر شپ کو پکڑنے میں پاکستان کی کاوشوں کو امریکا نے بارہا تسلیم کیا۔
پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ
ترجمان نے امریکی ناظم الامور کو یہ بھی باور کروایا کہ پاکستان نے افغان جنگ کے لیے اپنے فضائی، زمینی اور سمندری راستے فراہم کیے اور وہ امریکا اور خطے کے دیگر ممالک سے مل کر افغان جنگ کے خاتمے اور مفاہمتی عمل کے لیے کوشاں ہے۔
سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ امریکی بیانات اور الزامات ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ تھا پاکستان نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا’۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘ہم پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ دیتے تھے، ہم پاکستان کو سپورٹ کر رہے تھے اور القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن وہاں ملٹری اکیڈمی کے قریب آرام سے رہائش پریز تھا۔پاکستان میں ہر کوئی اسامہ بن لادن کے بارے میں جانتا تھا لیکن انہوں نے ہمیں اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے غلط بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں، عمران خان
امریکی صدر نے بعدازاں گذشتہ روز ٹوئٹر پر بھی اسی قسم کے بیانات داغے، جس پر پاکستانی قیادت کی جانب سے بھرپور ردعمل سامنے آیا۔
اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کا ‘ریکارڈ درست’ کرتے ہوئے کہا کہ ‘نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، ڈونلڈ ٹرمپ کے غلط دعوے دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کو جانی و مالی نقصان کی صورت میں لگنے والے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ ‘امریکی صدر کو تاریخی حقائق سے آگاہی کی ضرورت ہے، پاکستان نے امریکی جنگ میں بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے لیکن اب ہم وہی کریں گے جو ہمارے اور ہمارے لوگوں کے مفاد میں بہتر ہوگا۔